انگلینڈکے خلاف26ویں سیریز،آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا تو کوئی پاکستان سے سیکھے

عمران عثمانی

پاکستانی کرکٹ ٹیم5اگست سے انگلینڈ کے خلاف3میچوں کی سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں صف آرا ہے ، پریکٹس میچوں میں بائولنگ کامیاب رہی ہے تو بیٹنگ کے شعبےمیںٹیم ناکارہ دکھائی دی ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ انگلینڈ کی سرزمین پر کھیلنے والی ماضی کی تمام ٹیموں کی نسبت یہ قومی کرکٹ ٹیم ضرور کمزور ہے۔اظہر علی کی فارم اور فٹنس دونوں مشکوک ہیں ، اسد شفیق وغیرہ کا وکٹ پر رک جانا کمال ترین کام ہو گا اور بابراعظم سے ہی زیادہ امیدیں ہونگی۔
انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان ماضی کے مقابلوں کا جائزہ لیا جائے تو اسپنرز کا کردار ہر دور میں اہم ترین رہاہے پاکستانی کیمپ سے اچھے اسپنرز کے حملوں کی وجہ سے ہمیشہ انگلش کیمپ میں بجلی گری ہے،2016ء کی سیریز میں یاسر شاہ کی کارکردگی میں کچھ زیادہ تسلسل نہیں تھا مگر 2میچوں میں تباہ کن اسپیل نے پاکستان کی فتح میں مرکزی کردار ادا کیا تھا ۔2018میں وہ اسکواڈ کا حصہنہیں تھے لیکن اس بار ضرور ہیں مگر اعتمادکے بغیر ہیں ۔یہ کمی نوجوان کھلاڑی شاداب خان کے ذریعہ دور کی جا رہی ہے، یہ تجربہ کامیاب بھی ہو سکتا ہے مگر سامنے کھیلنے والے زیادہ تجربہ کار ہیں۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل ہوگا یا نہیں،آئی سی سی نے بتادیا
دونوں ملکوں کے درمیان کھیلے گئے 83ٹیسٹ میچوں کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان نے اگرچہ کم 21جیتےہیں اور زیادہ 25ہارے ہیں مگر دونوں ٹیموں کی بائولنگ میںسابقہ ریکارڈ کا پوسٹ مارٹم کیا جائے تو واضح طور پر پاکستان کو ا سپنر کے شعبے کی وجہ سے برتری حاصل رہی ہے ۔
عبدالقادر16میچوں میں 82وکٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں انگلینڈ کی جانب سے موجودہ کھیلنے والے بائولر جمی اینڈرسن نے سب سے زیادہ63وکٹیں15میچز میں حاصل کر رکھی ہیں ۔بہترین انفرادی بائولنگ کا اعزاز بھی عبدالقادر کے پاس 56/9کا ہے جو 1987ء میں لاہور میں رقم ہوا۔ انگلینڈ کے این بوتھم نے لارڈز میں 1978ء میں 34رنز کے عوض 8وکٹوں کے ساتھ بہترین بائولنگ کر رکھی ہے۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان مجموعی طور پر یہ26ویں ٹیسٹ سیریز ہے قبل ازیں کھیلی گئی25سیریز میں سے پاکستان 8میں فاتح رہاہے انگلینڈ کو معمولی برتری حاصل ہے اس نے 9سیریز جیتی ہیں8سیریز برابر رہیں گزشتہ25سیریز میں سے کسی بھی ایک سیریزمیں سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا اعزاز پاکستان کے شہرہ آفاق کھلاڑی عبدالقادر کو ہی حاصل ہے۔انہوں نے 3میچوں کی سیریز میں 30وکٹیں حاصل کیں ،یہ کارنامہ 5میچوں تک کی سیریز میں بھی کوئی سرانجام نہیں دے سکا ہے یہی نہیں کسی ایک سیریز میں سب سے زیادہ اسکور کرنے کا اعزاز بھی پاکستان کے نام ہے 2006ء کی سیریز میں محمد یوسف نے 4میچوں کی 7اننگز میں 90.14کی اوسط سے 631رنز بنائے۔ انگلینڈ کی جانب سے جوئےروٹ نے 2016ء میں 4میچوں میں 512رنز بنا کر یہ چوٹی سر کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے بہترین انفرادی اننگزمیں دونوں ٹیموں کے بلے بازوں میں معمولی ہی فرق رہا ہے۔1954میں نا ٹنگھم میں ڈی ایس کمپٹن نے 278رنز کی بڑی اننگز کھیلی ہے تو پاکستان کی جانب سے بھی متعدد اننگز سامنے آئی ہیں 1971ء میں برمنگھم کے مقام پر ظہیر عباس کی 274رنز کی اننگز اب بھی کسی بھی پاکستانی کی انگلینڈ کے خلاف بہترین انفرادی اننگز ہے ۔
پاکستان کا 20 رکنی ٹیسٹ اسکواڈ فائنل:کون ان،کون آئوٹ
دونوں ملکوں کی ٹیموں کے سنچری کلب کا جائزہ لیا جائے تو محمد یوسف 6سنچریوں کے ساتھ سب سے اوپر ہیں۔ انہوں نے یہ کارنامہ 13میچوں میں 1499رنز بنانے کے درمیان سرانجام دیاہے مجموعی اسکور میں ایلسٹر کک حال ہی میں بازی لے گئے ہیں انہوں نے20میچوں میں1719رنز بنا رکھے ہیں جبکہ پاکستان کے انضمام الحق نے 19میچوں میں 1584رنز بنائے تھے ۔ دونوں ٹیموں کی مجموعی کارکردگی کا عالم یہ ہے کہ پاکستان اوول میں 708رنز بنا کراب تک بڑے ا سکور میں آگے ہے۔ یہ کارنامہ 1987ء میں سرانجام دیا گیا۔ انگلینڈ کا بڑا ا سکور ابوظہبی میں 598/9اور اپنی سرزمین مانچسٹرمیں 589/8ہے جو2016میں اسکور کیا گیا کم اسکور میں دونوں ٹیمیں برابر ہیں۔
انگلینڈ کوبھارت کے مقابلے میں پاکستان کیوں محبوب؟جواب مل گیا
برمنگھم میں پاکستان اگست2010ء میں 72پر آئوٹ ہوا ہے تو جنوری 2012ء میں ابوظہبی میں انگلش ٹیم 72 پرپویلین لوٹ چکی ہے۔انگلش سرزمین پر یہ دونوں ملکوں کی16ویں سیریز ہو گی۔ قبل ازیں پاکستان نے 3جیتی ہیں 7ہاری اور5ڈرا کھیلی ہیں تاہم مجموعی طور پر یہ دونوں ملکوں کی26ویں سیریز ہے پاکستان کے پاس بھر پور موقع ہے کہ وہ سیریز جیت کر نہ صرف انگلینڈ کی 9سیریز کے برابر آ جائے بلکہ بھارت سے بھی ایک قدم آگے بڑھ جائے کہ بھارت نے بھی تاریخ میں انگلش سرزمین پر 3سیریز جیت رکھی ہیں ۔پاکستان ٹیم چوتھی سیریز جیت کر بھارت کے لئے بڑا چیلنج چھوڑ جائے گی۔
کیا ہوا کہ پاکستان 24 برس سے انگلینڈ میں ٹیسٹ ٹرافی نہیں اٹھاسکا ہے لیکن یہ بھی مت بھولیں کہ دوسری ٹیموں کی نسبت اس کا انگلش سر زمین پر ٹیسٹ ریکارڈ قابل فخر ہے ،انگلینڈ میں اس کی وکٹوں پر کھڑے ہوکر انگلش پلیئرز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنی ہوں تو کوئی پاکستان سے سیکھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں