انگلینڈ,کائونٹی سیزن,نسل پرستی,حقائق

انگلینڈ کا کائونٹی سیزن2020،نسل پرستی کے ناقابل تردید حقائق،سنسنی خیز اعدادوشمار،بریکنگ نیوز

عمران عثمانی

انگلینڈ کرکٹ میں نسل پرستی،سسٹم میں دیگر کمیونٹی کا راستہ روکے جانے کی آوازیں اس سیزن میں جتتنی بلند ہوئی تھیں،اس کی ماضی میں مثال ہی نہیں ملتی ہے ،بظاہر انگلینڈ ٹیم نے اس سیزن میں بلیک لائیو میٹر کمپین کی عملی حمایت کی،نسل پرستی کے خلاف آواز بلند کی لیکن یارکشائر کے سابق آف اسپنر عظیم رفیق کےادارہ جاتی نسل پرستی کے سنگین الزامات بھی سامنے آئے پھر پاکستان کے سابق فاسٹ بائولر رانا نوید نے بھی ان کی حمایت کرکے طمانچہ رسید کیا تھا ۔
ای سی بی نے بڑے اعلانات کئے کہ ریفارمز ہوگئی ہیں،عمل شروع ہے لیکن اس سیزن میںجو کچھ ہوا وہ آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے ۔دعوے جھوٹے بن گئے ۔ 18 کاؤنٹیز کےاول ٹیم کے عملے پر صرف 33 برطانوی ایسے سامنے آئے جو بلیک ، ایشین اور اقلیتی نسلی کے کھلاڑی تھے۔یہی نہیں بلکہ
چار کاؤنٹیزنے تو اپنے اسکواڈ میں ایک بھی پلیئر نہیں رکھا۔دیگر چار کاؤنٹیزمیں صرف ایک ہی پلیئر موجود ہے جبکہ سات کاؤنٹیز کے پاس ایگزیکٹو یا بورڈ عہدوں میں ایک بھی عہدہ باہر نہیں جانے دیا۔کاؤنٹیز میں سے دوتہائی نے اپنی ٹیم یا سپورٹنگ اسٹاف میں ایک بھی غیر گورا نہیں رکھا۔
یہ ریکارڈ نہایت ہی مایوس کن اور انگلش کرکٹ کا اصل چہرہ دکھانے کے لئے کافی ہے،برطانوی ادارے ڈیلی میل نے اس پر تحقیقاتی رپورٹ شائع کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں