انگلینڈ کوبھارت کے مقابلے میں پاکستان کیوں محبوب؟جواب مل گیا

عمران عثمانی

انگلش سرزمین پر پاکستان بھارت سے کہیں آگے
ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے درمیان ببل ٹیسٹ سیریز جاری ہے اس کے بعد 5 اگست سے پاکستان نے انگلینڈ کے مدمقابل آنا ہے،جیسا کہ یہاں گزشتہ روز بھی ذکر کیا تھا کہ پاکستانی ٹیم دنیا میں واحد ٹیم ہے جو انگلینڈ کے کرکٹ سیزن میں مسلسل 5 واں سال گزار رہی ہے،یہ پاکستان اور انگلینڈ کا کرکٹ افیئر ہے ،پاکستان کی جاندار پرفارمنس ہے اور اس کی انگلینڈ کے کرکٹرز،عوام کے ہاں مقبولیت ہے کہ ٹیم ہر سال کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے اور تو اور 5 سال کے اندر تیسری ٹیسٹ سیریز ملنا بھی بڑے اعزاز سے کم نہیں ہے،اس کی وجہ کیا ہے؟وجہ جوبھی ہو لیکن ٹیم نے اپنی پرفارمنس سے ثابت بھی کیا ہے ۔
پاکستان کا انگلش سرزمین پر مسلسل 5واں سال،کیا ہوتا رہا
پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیسٹ سیریز کی تاریخ بڑی دلچسپ اور چونکا دینے والی ہے جس کے جائزے میں بہت سی نئی باتیں سامنے آئیں گی مگر اس سے قبل ایک اور تذکرہ بھی ضروری ہے کہ روایتی حریف بھارت کا بھی انگلینڈ میں جائزہ لے لیں،وہ اپنے آ پ کو گزشتہ 2 دہائیوں سے بہت اوپر کی ٹیم جانتے ہیں اور اب تو شاید دنیا کے نمبر ون ملک اور کھلاڑی کہلاتے ہیں ۔بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے دونوں ممالک طویل عرصے سے باہمی سیریز نہیں کھیل رہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کو بھارت کے خلاف باہمی ٹیسٹ مقابلوں میں برتری حاصل ہے.اب چونکہ دونوں ممالک آپس میں تو نہیں کھیلتے لیکن کیوں نہ دونوں کی انگلش سر زمین پر اب تک کی پرفارمنس کا پوسٹ مارٹم کرکے نتیجہ نکال لیں کہ پاکستان بہتر ہے،آگے ہے یا بھارت کو بڑا نفع حاصل ہے.
پاکستان اور بھارت کی کارکردگی کا جائزہ اس اعتبار سے بھی لینا بنتا ہے کہ دونوں ممالک کی انگلینڈ کے خلاف پرفارمنس کا کیا عالم ہے؟دیکھنے کی بات یہ بھی ہونی چاہئے کہ ماضی میں پاکستان اور بھارت انگلینڈ میں انگلینڈ کے خلاف کیسے کھیلے ہیں کس کی کارکردگی بہتر رہی۔پاکستان آگے ہے یا انگلینڈ ؟پہلے اس کا جائزہ لیتے ہیں اس کے بعد پاکستان اور انگلینڈ کی باہمی ٹیسٹ سیریز کی تاریخ گھنگا لیں گے۔
انگلش سرزمین پر بھارت کی کرکٹ 1932ء اور پاکستان کی 1954ء سے شروع ہوتی ہے 22سال کے اس بڑے فرق کے باوجود پاکستان کرکٹ ٹیم کا ٹریک ریکارڈ، کامیابیاں اور اعزازات بھارت کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ مجموعی اعدادو شماریہ کہتے ہیں کہ پاکستان اور انگلینڈ کے مابین کھیلے گئے 83ٹیسٹ میچوں میں سے پاکستان 21میں فاتح رہا 25میں شکست ہوئی 37میچ بے نتیجہ رہے، دوسری جانب بھارت انگلینڈ کے مابین کھیلے گئے 122میچوں میں سے بھارت نے26جیتے اور 47ہارے، 49میچ ڈرا رہے۔ یہ اب تک کے وہ مجموعی ٹیسٹ میچ ہیں کہ جو دنیا میں کسی بھی مقام پر کھیلے گئے ہیں ان میں بھی پاکستان کو بھارت پر سبقت حاصل ہے کیونکہ پاکستان کی کامیابی کا تناسب 24.69اور بھارت کا 21.36جبکہ شکستوں کا تناسب پاکستان کا 29.62اور بھارت کا 36.75ہے تو یہ ثابت ہوا کہ بھارت انگلینڈ کے خلاف اپنے ملک سمیت مجموعی مقابلوں میں اتنا کامیاب نہیں ہوا ہے جتنا پاکستان اپنی ہوم سیریز تیسرے ملک میں کھیلنے کے باوجود آگے رہا۔
اب انگلش سرزمین پر کھیلے گئے مقابلوں کا جائزہ لیں تو کہانی اور زیادہ فرق پیدا کرتی ہے۔
پاکستان نے وہاں53ٹیسٹ میچ کھیل رکھے ہیں جن میں سے 12کامیابیوں کو گلے لگایا ہے 23میں شکست ہوئی ہے 18میچ ڈرا رہے اسکے مقابلے میں بھارت نے پاکستان سے زیادہ 62میچ کھیلے، پاکستان سے کم صرف7میچ جیتے، پاکستان سے زیادہ 34میچ ہارے اور 21میچ ڈرا کھیلے، یہی نہیں بلکہ انگلش سرزمین پر پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ لائن کا پلہ بھی بھاری ہے، کہا جاتا ہے کہ بھارتی بیٹنگ لائن بڑی مضبوط ہے مگر ملک سے باہر انگلش میدانوں میں ریکارڈ اسے بھی غلط ثابت کرتے ہیں۔ پاکستان کا کسی بھی ٹیسٹ اننگز میں ہائی اسکور 708اور کم اسکور 72ہے اس کے مقابلے میں بھارتی ٹیم کا ہائی ا سکور 664اور کم ا سکور 42رہا ہے تو ان دونوں کلب میں بھی پاکستان کا پلہ بھاری ہے۔
پاکستان اور بھارت کی انگلش سرزمین پر کھیلی گئی ٹیسٹ سیریزوں کا جائزہ لیا جائے تو پاکستانی ٹیم کویہاں بھی اپنے حریف پر سبقت حاصل ہے۔1954ء سے2018ء تک پاکستان نے انگلینڈ میں 15سیریز کھیلی ہیں ،پاکستان تین میں فتحیاب رہا ہے،پہلی سیریز 1987ء میں 5میچوں کی 1-0، دوسری سیریز 1992ء میں 5میچوں کی 2-1اور تیسری سیریز 1996ء میں 3میچوں کی 2-0سے جیتی ۔5سیریز ڈرا رہی ہیں اور انگلینڈ 7سیریز میں کامیاب رہا ہے۔ اب دوسری طرف دیکھا جائے تو کسی طرح بھی قابل ذکر پرفارمنس نہیں ہے۔بھارتی ٹیم نے 1932ء سے2018ء تک86سالوں میں 18سیریز کھیلی ہیں۔ اتفاق سے اس نے بھی 3سیریز ہی اپنے نام کی ہیں۔ 1971ء میں 3میچوں کی سیریز میں وہ 1-0جبکہ 1986ء میں بھی 3میچوں کی ہی سیریز0-2 اور 2007ء میں بھی 3میچوں کی سیریز 1-0سے جیتا ۔اس طرح بھارت کی تینوں کامیابیاں 3میچوں کے چیلنج میں رہی ہیں جو پانچ میچوں کے مقابلوں میں قدرے معمولی بات ہے۔ اب دوسرا رخ یہ بھی ملا خطہ ہو کہ اسے انگلینڈ میں 18سیریز میں سے14میں عبرتناک شکست ہوئی ان میں تین،چار اور پانچ میچوں کی سیریز بھی شامل ہیں جن میں اسے وائٹ واش ہوا ہے۔ بھارت کی ٹیم 82 سالہ تاریخ میں انگلینڈ میں صرف ایک سیریز ڈرا کھیل سکی ہے ۔ پاکستان اور بھارت کی انگلینڈ سر زمین پر سیریز وں کے مجموعی نتائج نکالے جائیں تو پاکستان کو 50فیصد برتری حاصل ہے۔
میچوں اور سیریز کے نتائج یہ واضح کرتے ہیں کہ بھارتی ٹیم کی کارکردگی پاکستان کے مقابلے میں انگلش سرزمین پر مایوس کن رہی ہے یہی وجہ ہے کہ گھر کے شیر کا لفظ عمومی طور پر بھارتی کرکٹرز کے بارے میں استعمال کیاجاتا ہے ۔پاکستانی ٹیم اظہر علی کی قیادت میں انگلش سرزمین پر اس لئے بھی اہم سیریز کھیل رہی ہے کہ اس کی حریف ویرات کوہلی الیون 2 سال قبل 5 میچز کی سیریز 1-4 سے ہاری،اس سے قبل 2014 میں 1-3 سے اور 2011میں 0-4 سے ہار چکی ہے جبکہ اسی عرصے میں پاکستان نے 2 سیریز ڈرا کھیلی ہیں اور پاکستان ناقابل شکست چلا آرہا ہے.پاکستان نے انگلینڈ کو انگلینڈ میں 1982 کے بعد 2006تک جیتنے نہیں دیا تھا،اس دوران پاکستان نے 1987 کے بعد 1992 اور پھر 1996میں فتح اپنے نام کی ،2001کی سیریز ڈرا کھیلی اور 2006 کے بعد 2010میں اوپر تلے 2 سیریز ہاریں لیکن پھر اس کے بعد 2016 اور 2018کی سیریز ڈرا کھیلیں.
دونوں ممالک میں انگلش سر زمین پر 1954سے ٹاکرے کاآغاز ڈرا سیریز سے ہوا اور کہانی 2018میں بھی ڈرا پر ختم ہوئی ہے،2020میں پاکستان کیا کرتا ہے،انگلینڈ کو خوف بھی ہے اور تھوڑا خطرہ بھی .
اس کے باوجود پاکستان انگلینڈ میں مقبول بھی ہے اور محبوب بھی.

اپنا تبصرہ بھیجیں