انگلینڈ کےسابق کوچ ثقلین مشتاق انگلش پلان پر حیران،دلچسپ باتیں

رپورٹ:عمران عثمانی

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق لیجنڈری اسپنر ثقلین مشتاق نے انگلش کرکٹ سلیکشن کمیٹی اور ٹیم منیجمنٹ پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک اسپنرز کو آگے آنے میں مدد نہیں دے رہا ہے۔
ثقلین مشتاق نے 2016 سے 2019کے مابین انگلینڈ کے لئے اسپن بائولنگ کوچ کے طور پر کام کیا ،بعد ازاں ان کی خدمات ورلڈ کپ 2019تک لی گئیں اور انگلینڈ ورلڈ چیمپئن بھی بنا۔
پی سی بی اکیڈمی میں اس وقت کے اسپن بائولنگ ہیڈ ثقلین مشتاق نے برطانیہ کے معروف ادارے ڈیلی میل سے گفتگو میں کہا ہے کہ آخر انگلینڈ کے لئے ورلڈ کلاس اسپنر یا ہیرو ٹائپ اسپنر کی تیاری کیوں مسئلہ بن رہی ہے۔43 سالہ ثقلین مشتاق کہتے ہیں کہ انگلینڈ مسلسل فاسٹ بائولرز پر بھروسہ کر رہا ہے۔
ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں تیز ترین 250 وکٹیں مکمل کرنے والے لیجنڈری اسپنر ثقلین مشتاق کہتے ہیں کہ انگلینڈ 2 وجوہ سے اس طرف نہیں آتا،پہلی وجہ موسم ہے اور دوسری وجہ ہر ایک کا اسپنرکی جگہ پیسر پر اعتماد کرنا ہے پھر وہاں کے ہیرو جیمز اینڈرسن،سٹورٹ براڈ اور بین سٹوکس ہیں جو نئے لوگوں کے بھی ہیرو ہیں،ایسے میں کلب کرکٹ میں بھی رجحان فاسٹ بائولنگ کی طرج جارہا ہے ،تو انگلینڈ کے پاس اب بھی ہیرر ٹائپ اسپنر نہیںہے۔
انگلینڈ کے تمام کپتان و کوچز کا رخ بھی پیس اٹیک کی جانب ہوتا ہے لیکن ڈوم بیس،جیک لیچ اور امار وردی ٹائپ کے اسپنرز دستک دے رہے ہیں،پاکستان کے لئے انگلینڈ میں جیتنا آسان نہیں ہے لیکن انگلینڈ کے لئے 2 مسئلے ہونگے،پہلا مسئلہ ان کا ٹاپ آردڑ اور مڈل آرڈر کا گیپ ہے اور دوسرا مسئلہ ان کےلئے اسپنرز کا ہے،یاسر شاہ مسئلہ بن سکتےہیں اور پاکستان نے انگلینڈ کو گزشتہ ایک عشرے سے ٹف ٹائم دیا ہے اور یہ بات نوجوان بائولرز کے لئے حوصلہ افزا ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں