جنوبی افریقا پر آئی پی ایل سمیت ہرکھیل کی پابندی میں تاخیر کیوں؟آئی سی سی کی سیاست ،نئے انکشافات

تبصرہ:عمران عثمانی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے گزشتہ جمعہ آئی سی سی میں جاری بگ تھری کا پہلی بار کھلے عام پردہ چاک کیا تھا،کرکٹ کی تھوڑی بہت بھی سمجھ رکھنے والے سالہا سال سے جانتے ہیں کہ کرکٹ کی گلوبل باڈی کتنی غیر جانبدارانہ رہ گئی ہے ،اس حوالہ سے کبھی کبھار اچھتے فورم سے بھی آواز اٹھتی ہے لیکن آئی سی سی کے فل 12بورڈ ممبران میں سے کوئی اٹھ کر سرعام ایسی بات کردے ،ایسا تاریخ میں بہت کم ہوا ہے،اس بات کو اب ایک ہفتہ ہونے کو آیا ہے مجال ہے کہ آئی سی سی،بگ تھری میں سے کسی کا بھی رد عمل سامنے آیا ہو۔
احسان مانی نے کہا تھا کہ آئی سی سی کا اگلا چیئرمین بگ تھری میں سے نہیں ہونا چاہئے،بھارت،انگلینڈ اور آسٹریلیا سے باہر کسی فرد کی تقرری ہونی چاہئے،انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ حالیہ عرصہ میں جو گندی سیاست انہوں نے آئی سی سی میں دیکھی ہے،اس کی کوئی مثال ہی نہیں ملتی۔
سارو گنگولی کی آئی سی سی چیئرمین شپ پر نگاہیں،انگلینڈ بورڈکا کیا بنے گا
(کرک سین نے یہ خبر 21 مئی کو بریک کی تھی جس میں جنوبی افریقا کی کھلی حمایت کا ذکر ہے.)
تیسرا ماہ چل رہا ہے اور کرکٹ گلوبل باڈی ابھی تک اپنا چیئر مین نہیں لاسکی،بھارت سے تعلق رکھنے والے ششانک منوہر نے 2 ادوار مکمل کر لئے ہیں،اس بار پرانے منصوبہ کے مطابق انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے سبکدوش ہونے والے چیئرمین کولن گریوز امیدوار تھے لیکن ان کی تقرری بھی نہیں ہوسکی۔
ایسا کیوں ہواہے؟
اس لئے کہ جیسے پاکستان کو تحفظات ہیں،اسی طرح کئی ممالک کو ہیں،سب سے اہم بات یہ ہے کہ آئی سی سی کے بورڈ ممبران کی اکثریت 2023سے2031کے اگلے 8سالہ ایف ٹی پی میں ہرسال ایک گلوبل ایونٹ چاہتی ہہے جس کی آئی سی سی سے عبوری منظوری لی جاچکی ہے لیکن اس پر بگ تھری کو شدید اعتراضات ہیں اور یہ کوئی مشکل سائنس نہیں ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ چیئرمین آئی سی سی کے انتخاب میںتاخیر میں ایک بنیادی عنصر یہ ایف ٹی پی کا نیا مجوزہ پلان بھی ہے،اس لئے بھارت،انگلینڈ اور آسٹریلیا اپنی مرضی کا چیئرمین لانا چاہتے ہیں تاکہ فیصلے بھی انکے مطابق ہوں۔
آئی سی سی چیئرمین شپ کی سیٹ پر پہلا حملہ کب ہوا
چند ماہ قبل کرک سین نے سب سے قبل یہ خبر بریک کی تھی کہ کرکٹ جنوبی افریقا نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ ساروگنگولی کےاگلے آئی سی سی چیئرمین کے لئے لابنگ شروع کردی ہے اور کرکٹ جنوبی افریقا کے ڈائریکٹر گریم اسمتھ نے تو کھل کر کوہلی کانام تجویز کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کا بورڈ اس کی حمایت کرےگا،یہ بھی ظاہر ہے کہ کرکٹ جنوبی افریقا نے یہ بات اپنے کسی مفاد کی وجہ سے کی ہوگی یا بھارتی بورڈ کی ایما پر کی ہوگی۔
اس تلاطم خیز مہم کے بعد چاروں جانب سے گنگولی کا نام سامنے آنے لگا،رکن ممالک کو تشویش ہوئی،اوپر سے کوروناکی وجہ سے ورلڈ ٹی 20 اور ایشیا کپ جیسے بڑے ایونٹنس ملتوی ہوگئے لیکن آئی پی ایل اور انگلینڈ و آسٹریلیا کے ہوم سیزن پوری طرح آباد ہونے لگے،کئی ممالک کو یہ بات بھی پسند نہیں آئی۔
سنگا کارا اور گاواسکر کی گنگولی کے لئے الگ الگ مہم
آئی سی سی چیئرمین کے انتخاب کے لئے چونکہ سیاست عروج پر ہے،اس لئے طاقتور ممالک اب نئے چیئر مین کے لئےسادہ اکثریت کی بات کرتے ہیں،سیاست سے 7ووٹ تو لئے جاسکتے ہیں لیکن 2تہائی اکثریت ممکن نہیں رہتی،چنانچہ تمام اجلاس بے فائدہ گئے ہیں۔
ابھی یہ معمہ جاری ہی تھا کہ جنوبی افریقا میں کرکٹ بورڈحکومتی حکم پر معطل ہوگیا ہے۔یہاں 2 اہم باتیں لنک بنتی ہیں،ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
آئی سی سی چیئرمین کے انتخاب پر گھنائونی سیاست،بڑے ادارےکا سخت رد عمل
کرکٹ جنوبی افریقا بورڈ پرا لزام لگا ہے کہ اس کے معاملات سیاست زدہ ہیں،کرپشن،نااہلی،خرابی کا ذکر ہے۔کیا آئی سی سی کی گندی سیاست بھی اس میں شامل ہے؟بھارتی بورڈ کی ایما یا اپنی لالچ میں چیئرمین آئی سی سی کے انتخاب کے لئے کرکٹ جنوبی افریقا کی سیاست بھی اس چارج شیٹ میں شامل ہے،شامل نہ بھی ہو،کیا عمل وجوہ میں تو شمار ہوا ہوگا۔اگر ایسا ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ آئی سی سی ٹاپ سیٹ کی طاقت کے لئے رکن بورڈز ہی نہیں انکی حکومتیں بھی شامل ہیں؟
کرکٹ جنوبی افریقا کی معطلی،آئی سی سی کے سابق قانونی سربراہ کا رد عمل آگیا
دوسری اہم ترین بات یہ ہے کہ بھارت کی پشت پناہی کرنے والے کرکٹ جنوبی افریقا کے حکام اس وقت معطل ہیں،بورڈ معطل ہے اور آئی سی سی کی کتاب میں ایسا ہونے پر رکن ملک کی رکنیت معطل ہوجاتی ہے،کرکٹ بند ہوجاتی ہے،اس کے پلیئرز انٹر نیشنل کرکٹ کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک مین کسی بھی قسم کی لیگ نہیں کھیل سکتے،زیادہ پرانی بات نہیں ،ایسی ہی حکومتی مداخلت کی پاداش میں زمبابوے کی رکنیت آئی سی سی نے گزشتہ سال معطل کی تھی اور ان کے کرکٹرز گھروں میں قید ہوکر رہ گئے تھے۔
تو کیا کرکٹ جنوبی افریقا کی رکنیت کی معطلی فوری نہیں بنتی؟
کرکٹ جنوبی افریقا معطل،حکومت کا کنٹرول،آئی سی سی کی جانب سے پابندی یقینی،بریکنگ نیوز
کیا کرکٹ جنوبی افریقا کو فوری طور پر انٹر نیشنل کرکٹ نہ کھیلنےکا نوٹفکیشن جاری ہو نا نہیں بنتا؟
تو کیا ان کے کرکٹرز پر دروازے بند نہیںہوتے؟ان میں سے کئی اس وقت عرب امارات میں آئی پی ایل کے لئے موجود ہیں۔
یہاں آئی سی سی کی غیر جانبداری کا پول پھر کھلے گا،پابندی لگتی ہے تو بھارت کی آئی پی ایل بھی متاثر ہوگی،بھارت ایسا کب چاہے گا؟
پابندی لگتی ہے تو آئی سی سی بورڈ میٹنگ میں اگلے چیئرمین کے لئے بھارت کی پشت پناہی کون کرے گا؟بھارت تو پابندی نہیں چاہے گا۔
کسی کو ذرا بھی شبہ ہے،یا کوئی غلط فہمی ہے تو اس کا یہ شبہ اور غلط فہمی آئی سی سی کے کرکٹ جنوبی افریقا کے اگلے فیصلےکے ساتھ ہی دور ہوجائیں گے۔
کرکٹ جنوبی افریقا میں حکومتی ،ادارے کی مداخلت ہوئی ہے،بورڈ معطل ہے ۔
آئی سی سی اب تک خاموش ہے۔جنوبی افریقا پر فوری طور پر انٹر نیشنل کرکٹ کی معطلی بنتی ہے اور اس کے کھلاڑیوں پر آئی پی ایل سمیت ہر قسم کی پابندی کا اطلاق ہوتا ہے۔
ایسا اعلان تو جمعہ کی صبح تک بنتا تھا ،دیر ہوگئی ،کوئی بات نہیں مگر
کیا ایسا اعلان ہونے والا ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں