سری لنکا کرکٹ کی بڑی قلابازی،اسکرپٹ رائٹر کی’’سیاست‘‘اصل حقائق کرک سین پر

تجزیہ:عمران عثمانی

آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ بھی کرکٹ بڑوں کی سیاست کی نذر ہونے لگی ہے،کرکٹ گلوبل باڈی کے چیئرمین کے تقرر میں تاخیر، اپنے چیئرمین کے لئےجاری سیاست،ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کو تاخیر کروانے جیسے منصوبوں پر کام جاری ہے جس کی جھلکیاں گاہے بگاہے دکھائی دیتی رہتی ہیں۔ایسی ہی ایک جھلک سر ی لنکا اور بنگلہ دیش کی اگلے ماہ شیڈول سیریز کے حوالہ سے سامنے آرہی ہے،یہ سیریز ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہے۔
بنگلہ دیش کا دورہ سری لنکا مشکوک،ٹیسٹ سیریز کیوں خطرے میں ،بریکنگ نیوز
گزشتہ ہفتہ کرک سین نے خبر بریک کی تھی کہ سری لنکا کی حکومت نے دائیں ،بائیں سے یہ خبریں نکلوائیں کہ بنگلہ دیش کےسری لنکا پہنچنے کی صورت میں 14 روزہ قرنطینہ کی شرط ہوگی جس پر ترجمان بنگلہ دیش بورڈ نے کہا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو ہماری ٹیم بنگلہ دیش نہیں جائے گی جس کے اگلے روز سری لنکن بورڈ نے بنگلہ دیش کو آگاہ کیا کہ 14 نہیں 7روزہ قرنطینہ ہوگا،اس پر بنگلہ دیش بورڈ کے سربراہ نظم الحسن نے کہا تھا کہ یہ 7 روزہ قرنطینہ منظور ہے،ٹیم شیڈول کے مطابق سری لنکا جائے گی۔کرک سین یہ خبر بھی بروقت دے چکا ہے۔
بنگلہ دیش کی دھمکی کام دکھا گئی،سری لنکن بورڈ کا رابطہ،قرنطینہ وقت میں کمی
پیر کے دن بی سی بی ڈائریکٹرز کے ساتھ میٹنگ کے بعد نظم الحسن نے کہا کہ ٹیم کو تین ٹیسٹ کھیلنے کے لئے سری لنکا نہیں بھیجیں گے کیونکہ وہ پھر 14 روزہ قرنطینہ اور 30 کرکٹرز کی شرط لگارہے ہیں ،ہم بڑا دستہ لے جانا چاہتے ہیں اور 7روز سے زیادہ قرنطینہ نہیں کریں گے۔
بنگلہ دیشی سربراہ نے کھلے عام سوال کیا کہ کیا سری لنکا میں کورونا پھر زیادہ ہے ،اسے چھپایا جارہا ہے جو اتنی کڑی شرائط لگادیں،ایسی شرائط کہ 14 دن ہوٹل میں بند،کھانا بھی الگ کھانا وغیرہ۔کیا ان مقامات پر جہاں کرکٹ کھیلی جارہی ہے،ایسی شرائط ہیں؟
ہم ایسی شرائط میں ٹیم نہیں بھیجیں گے،اب گیند سری لنکا کی کورٹ میں ہے،وہ نئی تجاویز دے اور یا پھر اس پر ڈٹ جائے اور سیریز منسوخ سمجھے۔
چند سوالات تو بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ نے کردیئے،وہ اپنی سیٹ پررہ کر اتنے ہی کرسکتے تھے۔اب چند سوالات کرک سین اٹھارہا ہے۔
سری لنکا میں کووڈ-19کنٹرول ہے،بنگلہ دیش میں سب کچھ بند ہے،3 کووڈ ٹیسٹ کے بعد کھلاڑیوں کا سری لنکا اترنا،پھر 7روزہ قرنطینہ اور اس میں 3 ٹیسٹ کا پاس کرنا کیا حفاظتی انتظامات و شرائط پر پورا اترنے کےلئے کافی نہیں ہے تو ایسے میں سری لنکن حکومت نے اپنے بورڈ کے ذریعہ یہ کیسا کھیل کھیلا ہے کہ14 روزہ قرنطینہ کی شرط لگادی ،اوپر سے 30 کرکٹرز کی دوسری شرط عائد کردی؟
یہ وہی سری لنکن بورڈ ہے نا جس نے بھارت کو اپنی آئی پی ایل سری لنکا میں کروانے کی پیشکش کی اور آخرتک اس کی کوشش بھی کی۔30 کرکٹرز کی پابندی لگانے والا ملک 700کے قریب کرکٹرز،آفیشلز،آئی پی ایل منیجمنٹ،براڈ کاسٹرز اور اہم شعبوں کے دیگر افراد کی وہ میزبانی پھر کیسے کرلیتا؟کیا آئی پی ایل والوں پر بھی 14 روزہ قید نما قرنطینہ کی قید لگاسکتا؟
یہی وہی سری لنکن بورڈ ہے جس نے جنوری سے مارچ 2021کے درمیان انگلینڈ کے دورہ بھارت کے نہ ہونے کی صورت میں غیر جانبدار وینیو کی پیشکش کر رکھی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ انگلینڈ نے سری لنکا میں 2 ٹیسٹ بھی کھیلنے ہیں تو کیا ان کے لئے بھی کرکٹرز کی تعداد کی پابندی اور 14 روزہ قرنطینہ کی جرات ہوگی؟
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے حال ہی میں آئی پی ایل کے لئے مستفیض الرحمان کو این اوسی جاری کرنے سے انکار کیا ہے اور اسی طرح سری لنکن امپائر دھرما سینا نے آئی پی ایل کا حصہ بننے سے بھی انکار کیا ہوا ہے۔اس نئی پکچر میں ان 2 فیصلوں کو پس پشت ڈالا جاسکتا ہے؟
آئی سی سی چیئرمین کی تقرری کے لئے وہی سیاست ہورہی ہے جس کا ذکر پی سی بی چیئرمین احسان مانی کرچکے ہیں کہ ایسی سیاست انہوں نے کبھی نہیں دیکھی۔
سوالات نہایت اہم ہیں،موجودہ منظرنامہ سے پس منظر میں کچھ طے ہونا ہے ؟طے نہ ہونے کی صورت میں سیریز ہی نہیں ہونی،علم ہوجائے گا لیکن ایسا لگتا ہے کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی یہ سیریز بھی کسی بڑی سیاست کی نذر ہوگئی ہے،منسوخی کی صورت میں بھاری قیمت چکانی ہوگی اور منسوخ نہ ہونے کی صورت میں اس سے بھی کہیں بھاری قیمت جو بدقسمتی سے سنی جائے گی نہ دیکھی جائے گی۔
بنگلہ دیش نے شیڈول کے مطابق27ستمبر کو سری لنکا روانہ ہونا ہے جہاں 24 اکتوبر سے 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلی جانی ہے.ٹیم ان دنوں ٹریننگ میں مصروف ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں