فکسنگ اور سلیم ملک،میاں دادعمران خان سے کیوں مخاطب،پرائم منسٹر ہائوس میں کوئی بریفنگ؟

تجزیہ:عمران عثمانی
پاکستان کرکٹ اس وقت مکمل طور پر میچ فکسنگ اور کرپشن کیسز پر گھوم رہی ہے،سابق کرکٹرزاور بورڈ آفیشلز حصہ بقدر جثہ کے مصداق اس میں آرہے ہیں لیکن کچھ لوگوں کے لئے سلیم ملک کے سابق کیس کے ساتھ منظر عام پر آنے سے پریشانی بڑھتی جارہی ہے اور وہ اس پر خاموش ہیں لیکن یہ ایسا مسئلہ ہے جس سے جتنی آنکھیں چرائی جائیں ،اتنا ہی پھنسنے والی بات ہے۔
فکسنگ،کرک سین کی پیش گوئی تیسرے روز بھی پوری، اگلا سین بھی کرک سین پر
ہفتہ 2مئی کو پاکستان کے سابق کپتان جاوید میاں دادنے بھی اس میں اپنا حصہ ڈال دیا ہے،ایک یوٹیوب ویڈیو گفتگو میں سابق کپتان نے سلیم ملک کی حمایت کر دی ہے ،کہتے ہیں کہ جب جرم کرنے،اعتراف کرنے والے واپس آگئے تو سلیم ملک کا قصور کیا ہے۔جاوید میاں داد نے ایک اور پیاری بات کی کہ اگر اس وقت انصاف ہوگیا ہوتا تو آج ایسا نہ ہوتا،کیونکہ یہاں اصول کوئی نہیں ہے ،جس کی لاٹھی ،اس کا سر والی بات ہے توپھر یہ تضاد ہے،انہوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں اور انصاف دیں ۔جاوید میاں داد نے اور بھی بہت سی باتیں کیں لیکن بنیادی گفتگو پیش کر دی ہے۔
اب ذرا پس منظر پر ایک بار پھر نگاہ دوڑالیں۔
پاکستان کے 7فیصد ٹیسٹ کھلاڑی میچ فکسنگ میں ملوث،سنسنی خیز رپورٹ کرک سین پر
عمر اکمل کیس کا فیصلہ آنے والا تھا کہ سلیم ملک اپنا 20 سالہ پرانا کیس لے آئے،پی سی بی نے سلیم ملک کو جھوٹا کرتے ہوئے آئی سی سی کے مبینہ سوالنامے،سلیم ملک کے فرار ہونے کا موقف اپنایا،جسے سلیم ملک نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بات مجھ سے نہیں کی گئی،اگر ہے تو میں جواب دینے کے لئے تیار ہوں۔اتنے میں عمر اکمل کو 3سال کی معطلی کی سزا ملتی ہے،شعیب اختر پی سی بی کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہیں تو قانونی مشیر پی سی بی تفضل رضوی ان پر ہرجانہ کا کیس کرتے ہیں،شعیب کی حمایت میں یونس خان،شاہد آفریدی اور محمد یوسف آتے ہیں اور ساتھ ہی پی سی بی کی بد نظمی کہہ لیں یا ناکامی کہ سابق چیئرمین پی سی بی خالد محمود،سابق چیف ایگزیکٹو عارف عباسی سمیت کچھ لوگ اس کا اظہار کرتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ گڑ بڑ چلتی رہی ہے۔اتنے میں سلیم ملک پھر پی سی بی سے کہتے ہیں کہ مجھے آئی سی سی والا سوالنامہ دیں،پی سی بی خاموش ہوتا ہے کہ جاوید میاں داد سامنے آکر جو بول جاتے ہیں وہ آپ نے دیکھ لیا۔
جاوید میاں داد اصل میں کہہ کیا رہے ہیں؟
سلیم ملک اکیلے کا قصور کیا ہے؟باقی دندناتے پھرتے ہیں تو ان کا بھی واپسی کا حق ہے۔
اس وقت انصاف نہیں ہوا،یہ انصاف کس نے کرنا تھا؟گویا پی سی بی اپنا کردار ادا نہیں کرسکا،تو پھر شعیب اختر درست کہہ رہے نا؟تو پھر میاں داد نے شعیب کی بات کی توثیق کردی۔
اور سب سے دلچسپ بات کہ وزیر اعظم عمران خان اپنی ذمہ داری پوری کریں اور انصاف دیں۔
گویا پاکستان کرکٹ بورڈ انصاف نہیں دے سکتا؟گویا میاں داد کو پی سی بی پر قطعی یقین نہیں ؟اور گویا پی سی بی مسلسل ناکام ہے؟میاں داد کی بات کا یہی مطلب ہوانا؟
اور جاوید میاں داد نے ایک اور خوفناک بات بھی کی ہے کہ ’’امکان ہے کہ مستقبل میں بھی ایسی باتیں سامنے آتی رہیں گی‘‘،اس کا مطلب میں نکالوں یا آپ سمجھ گئے ہیں۔
پاکستان کرکٹ میں پرانے جوئے کی نئی گونج،اسکرپٹ شروع،شکنجہ تیار
میں پہلے دن سے عرض کر رہا ہوں کہ معاملات محض اتفاق نہیں ہیں،ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کرکٹ کے اس خفیہ کھیل کو اب منطقی انجام تک پہنچانے کی وسل بج چکی ہے ،اب باسط علی پر الزام لگے اور وہ انکار کریں،وسیم اکرم پر اس وقت کے پی سی بی چیئرمین خالد محمود عطا الرحمان کے حوالے سے اتنے بڑی بات کردیں اور وسیم اکرم خاموش رہیں تومعاملے کی سنگینی سمجھ لینی چاہئے۔
سلیم ملک کے پرانے کیس اور عمر اکمل کے موجودہ کیس کے تناظر میں کسی نہ کسی انداز میں شعیب اختر،یونس خان،محمد یوسف،جاوید میاں داد سامنے آگئے،اس وقت کے پی سی بی حکام بھی بول اٹھے تو اہم ترین سوال یہ ہے کہ سابق کپتان عامر سہیل اور سابق وکٹ کیپر و کپتان راشد لطیف کہاں گم ہیں؟توقع کریں کہ وہ اگلے چند گھنٹوں یا دنوں میں سامنے ہونگے؟
پاکستان کے سابق کپتان عمران خان جو اس وقت وزیر اعظم ہیں ،وہ آئین کے اعتبار سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن انچیف بھی ہیں،جاوید میاں داد کو انہیں مخاطب کرکے اس مسئلے میں انصاف کرنے کا کہنا کیا اتفاق ہے؟
پاکستان کرکٹ میں چلتی پرانی بیماری،اس کے کرداروں اور مستقبل کے حوالے سے کچھ اہم اقدامات کے اٹھائے جانے کے حوالے سے پی سی بی کے پیٹرن انچیف عمران خان پرائم منسٹر ہائوس میں کوئی بریفنگ لے چکے ہیں؟
پاکستان کرکٹ کی خرابی میں انٹر نیشنل کرکٹ اسٹیبلشمنٹ کا کردار کیا رہا ہے؟ابھی بھی کچھ چہرے یہاں اور وہاں موجود ہیں ،تو کیا 2020کے آخر تک بہت کچھ بدلنے والا ہے.رمیزراجہ کس 7 فیصد میچ فکسرز ٹیسٹ پلیئرز رپورٹ کی بات کر رہے ہیں .
سلیم ملک کیس کا اب اٹھایاجانا قطعی اتفاق نہیں ہے۔وسل بج چکی ہے،فائل ٹیبل پر موجود ہے،کھیل شروع ہوچکا ہے اور روز کا بیانیہ درست حد تک جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں