مصباح الحق کی میڈیا گفتگوکاپوسٹ مارٹم،چیف سلیکٹرکے عہدے سے رخصتی یقینی

عمران عثمانی

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ وچیف سلیکٹر مصباح الحق نے دورہ انگلینڈ کے بعد پہلی بار پاکستانی میڈیا کاسامنا کرتے ہوئے یہ باتیں گنوائی ہیں کہ بہت سی چیزیں مثبت ہوئی ہیں۔ٹیم نے بہت کچھ دکھایا بھی ہے،ٹیسٹ میچ میں فتح کے قریب آکر ہارے،ٹی20 میں 2بار 190سے اسکور کیا۔ایک میچ جیتا بھی اور انگلینڈ میں انگلینڈ کے خلاف جیتنا آسان نہیں ہوتا۔
چیف سلیکٹر وہیڈ کوچ نے گویا اپنے فیصلوں و پرفارمنس کا دفاع کیا ہے۔اچھی بات ہے لیکن کچھ غلطیوں کا بھی کھلے عام اعتراف بنتا تھا۔
حیدر علی کو تم لوگ نہیں لائے،ہم ہی لائے ہیں،ہمیں پلان کے مطابق کھیلنا ہوتا ہے،سینئرز بھی موجود ہیں۔ٹیم درست ٹریک پر ہے،بہتری کی جانب جارہے ہیں۔پی سی بی نے ملکی کرکٹ سسٹم سیٹ کیا ہے،اس کے نتائج آنے میں وقت لگے گا،ہر چیز میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے،اوور آل جو ویژن ہوتا ہے،اس میں ہر وقت مزید بہتری کی گنجائش ہوتی ہے۔ہم درست ٹریک پر جارہے ہیں۔
حفیظ و شعیب سینئرز،ورلڈ کپ تک کھیلیں گے،سرفراز کادرجہ سیکنڈ چوائس،مصباح کا اعلان
چیف سلیکٹر نے یہ تو بتادیا کہ ہم لائے ہیں،آپ تو سب کو لائے ہیں تو سب کا کیا حال ہے،یہ بات بڑی عجب ہوئی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ انگلینڈ کے اہم ترین دورے میں میری توجہ ادھر تھی،ملکی کرکٹ سسٹم پر توجہ نہیں تھی،میرے پیچھے جو کام ہوا،اس پر ندیم خان سے بات کروں گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں جب آیا تو ٹیم ٹی20 میں نمبر ون نہیں تھے،ہم ہار رہےتھے۔یہ بات یاد رکھیں کہ میرے آنے سے پہلے ہی ٹیم ہار رہی تھی،ملکی کوچز جو بھی آئے ہیں،ان کے ساتھ کام کروں گا۔
گویا مصباح کو چیف سلیکٹر وہیڈکوچ کے ساتھ ڈومیسٹک کرکٹ کی بھی کمان چاہئے۔عجب ہی بات ہےکہ وہ ملک کی 6کرکٹ ایسوسی اییشنز کے کوچز کو بھی اپنا ہی جیسا بناناچاہتے ہیں۔
مصباح کہتے ہیں کہ ٹیم جیتنے کے لئے کھیلتی ہے،جب نہ جیتے تو سب کو برائیاں دکھائی دیتی ہیں،بائولنگ میں ناتجربہ کاری ہے،اس کو وقت دینا ہوگا کیونکہ اس میں وقت لگے گا بھی،ٹیسٹ میچ بھی ناتجربہ کاری کی وجہ سے ہارے۔وقت دینا ہوگا،نتائج بھی آئیں گے۔
چیف سلیکٹر صاحب وکوچ سے کوئی یہ تو سوال کرتا کہ کوئی ٹیم بھی یکدم ناتجربہ کاری کا ٹولہ ایک ساتھ نہیں جوڑتی،جب وہاب ریاض کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلیں گے تو انہیں ایک تجربہ کار بائولر کے طور پر کھلانا چاہئے تھا،پہلی ترجیح وہی ہوتے۔ان کے ساتھ کمبی نیشن سیٹ کیا جاتا۔تینوں ٹیسٹ میچز میں ناتجربہ کاری کا بوجھ لادا گیا،نتیجہ میں 277رنز چوتھی اننگ میں بنوالئے گئے۔ٹی20 میں بھی یہی حال تھا،195کرکے بھی ہار گئے،پھر وہاب ریاض ہی لائے گئے اور 190پرجیت گئے،19واں اوور یاد ہوگا،جب انہوں نے پہلے رن آئوٹ کیا پھر سیٹ بیٹسمین معین علی کو آئوٹ کرکے پاکستان کی جیت کو یقیی بنایا۔
مصباح کہتے ہیں کہ میچ کے دوران نتائج یا پرفارمنس اچھی نہ ہو تو فرسٹریشن بھی ہوتی ہے،مجھے بھی دوسرے میچ میں ٹینشن ہوئی ہے لیکن کوشش کروں گا کہ مستقبل میں ایسی بات نہ ہو۔بابر اعظم پاور فل کپتان ہیں،اپنے فیصلے وہ خود کرتے ہیں،سپورٹ ہم کررہے ہیں،غلطیاں ہونگی،بہتری بھی آئے گی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2نئے بائولرز کے ساتھ عامر کو کھلایا،عامر ان فٹ ہوا تو وہاب ریاض آئے،ٹیم کمبی نیشن دیکھا جا تا ہے،کسی پلیئر کو نہیں دیکھتے۔
شعیب ملک،حفیظ اور وہاب ریاض کھیل سکتے ہیں،ان کی پرفارمنس اچھی جارہی ہے۔ورلڈ ٹی20 کے قریب حتمی ٹیم بنائیں گے،ابھی سے 37 یا 38 کا ہونے کی وجہ سے کسی کو نہیںچھوڑ سکتے،یہ ٹیم اور اس پلیئر کے ساتھ زیادتی ہوگی۔بہترین 15 کھلاڑی دیکھے جائیں گے۔
مصباح نے رمیز سمیت تنقید کرنے والوں کو کھلا جواب دے دیا ہے کہ جتنا بولنا ہے،بول لیں۔ویسے پاکستانی شائقین اس میچ کا انتظار کریں گے جب ٹیم کو 190رنزکا ہدف عبور کرنا ہوگا اور اس روز شعیب یا حفیظ اپنی بیٹنگ سے پاکستان کو جتوا کر ثابت کریں۔
مصباح نے مزید کہا کہ کسی نے ماضی میں کیا کہا ہے مجھے اس سے کوئی غرض نہیں،ہم ایک ساتھ کھیلے بھی ہیں،ٹیم کے طور پر اچھا جانا ہے۔کوچ یا چیف سلیکٹر کے طور پر جب آپ کسی کے ساتھ کمیونکیشن کرتے ہیں تو اس میں کلیئرٹی ہوتی ہے۔انگلینڈ کا یہ دورہ اس لئے بھی اچھا رہا ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کے قریب رہے،تمام وقت ایک ساتھ گزرا،سب کا پتہ چلا،سب کو ان کی ڈیمانڈ کے مطابق چلایا۔
مصباح کہتے ہیں کہ ہمیں بھی علم نہیں ہوتا کہ سوشل میڈیا پر کیا چل رہا ہے ،لوگ کیا کہہ رہے ہیں،تنقید ہورہی ہے،یہ اتفاق ہوسکتا ہےکہ جو بات کہی جارہی ہوتی ہے،ہمارےپلان کا وہ پہلے سے حصہ ہوتی ہے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم تنقید کو فیس نہیں کرسکے اور دبائو میں آگئے،ٹیم ایسے نہیںچلا کرتی،اگر ہم ایسے کرنےلگ جائیں تو ہر میچ کے بعد آپریشن دکھائی دے گا،ایسا نہیں ہوتا۔
مصباح اوران کے ساتھی روز سوشل میڈیا استعمال کرتے رہے ہیں،یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ انہیں یہ بھی علم نہ ہو کہ خلق خدا کیا بول رہی ہے اور سینئرز کیاتنقید کر رہے ہیں۔
نسیم شاہ نے ٹرافی میں اچھی پرفارمنس دی تو ہم اس کو آگےلائے،ہم انٹر نیشنل کرکٹ کے حساب سے اینڈرسن یا براڈ جیسی پرفارمنس مانگتے ہیں تو تھوڑا تجربہ بھی ویسا ہولینے دیں۔تمام نئے بائولرز باصلاحیت ہیں۔سرفراز احمد کو کھلاتے وقت بھی یہی کہا تھا کہ اس ایک میچ سے کوئی فیصلہ نہیں ہوگا۔اس وقت رضوان پہلے نمبر کی چوائس اور سرفراز دوسرے نمبر کی چوائس ہیں،سرفراز ہماری پلاننگ میں ہیں،آگے آپ دیکھیں گے۔
پاکستان کے سابق کپتان سرفراز احمد کی عزت افزائی ایک بار پھر ہورہی ہے۔دیکھیں سرفراز کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
جو لوگ اسٹاف کی بات کررہے ہیں،وہ خود ہوتے تو انہیں علم ہوتا کہ 30 لڑکوں کو کیسے سنبھالنا ہے،پہلے
صرف 6بیٹسمینوں کو بیٹنگ پریکٹس ملتی تھی اب ایسا نہیں ہوتا،تمام 30 نے بیٹنگ بھی کرنی ہوتی ہے،اسٹاف نے فیلڈنگ بھی کی،امپائرنگ بھی کی۔
یہ کون بتائے گاکہ دفاعی حکمت عملی کیا ہوگی اور اٹیکنگ کرکٹ کیا ہوگی،ہم نے اچھے فیصلے کئے۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم دفاعی کھیل کھیلتے ہیں تو انگلینڈ میں ہمارے فیصلے اور کھیل تو اس کے الٹ ہے،ٹاس جیت کرپہلے بیٹنگ کرنا کیا بزدلانہ عمل تھا یا اٹیکنگ،تو یہ عجیب بات ہورہی ہے۔
ڈیپارٹمنٹ کرکٹ کا نعم البدل ہونا چاہئے،ہم اس پر بات کر رہے ہیں۔کووڈ کی وجہ سے سب کچھ بند تھا،میری رائے یہ ہے کہ اس پر غور ہونا چاہئے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مصباح الحق دفاعی سوچ کے حامل کپتان تھے اور دفاعی سوچ کے حامل ہی ہیڈ کوچ ثابت ہوئے ہیں،پورا ماضی گواہ ہے اور انگلینڈ کا یہ دورہ بھی۔117پر 5 آئوٹ کرکے ان کی ٹیم نے اٹیکنگ بائولنگ کی ہوتی،اٹیکنگ فیلڈنگ کی ہوتی اور اٹیکنگ حکمت عملی اختیار کی ہوتی تو آج پاکستان0-1سے ٹیسٹ سیریز جیت کر آتا،سارا ملبہ اظہر علی پر نہیں ڈالا جاسکتا،درمیان میںچائے کا وقفہ بھی ہوا تھا اور انگلینڈ تب بھی 110رنز کی دوری پر تھا،اس وقت کوچز کی فوج ظفر موج کی پلاننگ کیا تھی؟وہ جو شکست تک ہر ایک نے دیکھی۔وہ پلاننگ سہمی سہمی،ڈری ڈری اور دفاعی تھی،ایسی جیسی کوئی ڈرپوک ٹیم کھیل رہی،ایسی کہ جیسے اس ٹیم کا کوئی سائبان ہی نہ ہو۔
معاف کیجئے گا جناب چیف سلیکٹر و ہیڈ کوچ صاحب،آپ کی پلاننگ وحکمت عملی وہی تھی جس کا ذکر جاوید میاں داد،شعیب اخترودیگر نے کیا۔
مصباح کی ساری باتیں کھوکھلی ہی ہیں،امید ہے کہ بورڈ کی کرکٹ کمیٹی ان کا آپریشن کرے گی اور کرک سین کو یقین ہے کہ مصباح الحق کی بطور چیف سلیکٹر اننگ ختم ہونےکو ہے.بس رسمی اعلان باقی ہے اور اس کے لئے شاید نیوزی لینڈ کے دورے سے قبل کا وقت منتخب کیا جائے گا .یہ دورہ دسمبر میں شیڈول ہے اور اس سے قبل زمبابوے اور ممکنہ حد تک بنگلہ دیش کی سیریزہوگی.

اپنا تبصرہ بھیجیں