ملتان,زمبابوے میچز,محروم,،پی سی بی,ضلعی انتظامیہ

ملتان زمبابوے میچز سے کیوں محروم،پی سی بی کا غیر سرکاری موقف،ضلعی انتظامیہ کی اصل نااہلی،،،،صرف کرک سین پر

ملتان,زمبابوے میچز,محروم,،پی سی بی,ضلعی انتظامیہ

عمران عثمانی کی خصوصی رپورٹ
لاہور میں زمبابوے کے خلاف ون ڈے انٹر نیشنل میچز کی میزبانی کی تیاری شروع ہوگئی ہے۔اس طرح ملتان میں شیڈول 3و ن ڈےمیچز اب قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جائیں گے۔
کرک سین کے رابطہ پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک آفیشل نے غیر سرکاری طور پر تصدیق کی ہےکہ زمبابوے کے خلاف ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں شیڈول 3 ون دے میچزکی میزبانی لاہور کو دے دی گئی ہے اور اس کے لئے تیاریاں بھی شروع ہوگئی ہیں۔زمبابوے کرکٹ بورڈ کو بھی اعتماد میں لے لیا گیا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ مہمان بورڈ بھی ملتان کی بجائے لاہور میں کھیلنے پر زیادہ مطمئن ہوسکے گا۔
زمبابوے ٹیم نے اس ماہ 3 ون ڈے اور 3ٹی 20 میچز کے لئے پاکستان آنا ہے اور پی سی بی نے ون ڈے میچز ملتان میں شیڈول کئے تھے ،وہ30اکتوبر،یکم اور3نومبر کو کھیلے جانے تھے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے آفیشل نے غیر رسمی انداز میں یہ بتایا ہے کہ سننے میں آیا ہے کہ ملتان کی ضلعی انتظامیہ نے 3 ون ڈے میچز کے لئے پی سی بی سے 20 کروڑ روپے مانگے تھے جو حد سے زیادہ رقم بنتی ہے ،ایک تو تماشائیوں کی آمد نہیں ہونی تھی،اس کی آمدنی ممکن نہیں تھی،دوسرا جب تماشائیوں کی آمد نہیں ہونی تھی تو سکیورٹی بھی ایک حد تک ممکن ہونی تھی لیکن اس کے باوجود ملتان کی ضلعی انتظامیہ کا 20 کروڑ روپے طلب کرنا نہایت ہی حیران کن امر ہے۔
سوال یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے کیا اخراجات کرنے تھے کہ اتنا خرچ ہوجاتا؟
ملتان میں ہونے والے قومی ٹی 20 کپ کے میچز کے حوالہ سے ضلعی انتظامیہ نے کیا کردار داکیا تھا؟
انٹر نیشنل کرکٹ کے حوالہ سے مسائل دوسرے ہی ہوتے ہیں لیکن ریہر سل میں ظلعی انتظامیہ کامیاب رہی؟پی سی بی مطمئن تھا؟
گزشتہ جمعہ مجھے ایک بار ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں جانے کا اتفاق ہوا۔ملتان کرکٹ اسٹیڈیم کے روڈ سے ہوتا ہوا جب میں اسٹیڈیم میں داخل ہوا تو کافی حیرت زدہ تھا کیونکہ اسٹیڈیم کی حدود کے باہر ایسا کچھ بھی نہیں تھا جو تھوڑا سا بھی غیر معمولی ہوتا۔پھر گرائونڈ کے باہر چاروں جانب رائونڈ کرنے پر دوسرا دلچسپ اتفاق یہ ہوا کہ ضلعی انتظامیہ جس میں سب ادارے آتے ہیں،ان کی کوئی موثر نمائندگی دکھائی نہیں دی اور جو دکھائی دی وہ ایسا لگا کہ جیسے خوابیدہ سی ہو۔
تیسرا دلچسپ اتفاق میڈیا گیلری میں داخلہ کے وقت ہوا کہ جیسے وہاں کوئی یہ دیکھنے والا نہیں تھا کہ کون آرہا ہے اور کون جارہا ہے،ضلعی انتظامیہ کی جانب سے میڈیکلی،سکیورٹی چیک اپ کا کوئی نظام میں نے نہیں دیکھا تھا۔
ایک تاثر عام ہے کہ ملتان کی ضلعی انتظامیہ اس امتحان میں پڑنا ہی نہیں چاہتی تھی کہ اسے 7 دن کسی خاص قسم کی دیوٹی پر لگنا پڑے،اس لئے اتنی رقم مانگی گئی ہے کہ پی سی بی خود ہی بھاگ جائے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی اس حوالہ سے اپنی رٹ رکھنی چاہئے تھی کہ وہ اپنی بات اپنی شرائط پر منواتا،لے اور دے کے ،اب یہ سوال یہاں کرکٹ کے حوالہ سے بھی بنے گا کہ حکومتی رٹ کدھر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں