ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ،آئی سی سی کا نیا منصوبہ تیار،اعلان اگلے ماہ متوقع،بریکنگ نیوز،چشم کشا حقائق

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ،آئی سی سی کا نیا منصوبہ تیار،اعلان اگلے ماہ متوقع،بریکنگ نیوز،چشم کشا حقائق

عمران عثمانی

بنگلہ دیش نے پاکستان کے خلاف ملتوی ٹیسٹ کے ری شیڈولنگ میں عدم دلچسپی ظاہر کرکے نئے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے،وہ شکوک و شبہات کیا ہیں؟
کرک سین پر قریب ایک ماہ قبل 18ستمبر کو جو تفصیلی تجزیہ پیش کیاگیا تھا،قریب وہی ہونے جارہا ہے،اس سے آپ بخوبی اندازا کرسکتے ہیں کہ کرک سین نے کرکٹ کی گلوبل باڈی کی نبض کو قریب سے تھام رکھا ہے،آئی سی سی جون 2021میں لارڈز میں پہلی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل کروانے کے لئے پرعزم ہے اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے حال ہی میں اس کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کووڈ-19کی وجہ سے متعدد ٹیسٹ سیریز التوا کا شکار ہیں اور وقت بہت ہی کم ہے ،تو تمام ممالک کی سیریز کھیلے بنا ہی یہ فائنل کیسے ممکن ہوگا؟
کرک سین نے اس پرپہلےکی تحقیق کو مزید آگے بڑھایا ہے تو یہ انکشاف ہوا ہے کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی ریس میں شامل ممالک کی ٹیسٹ سیریز تو مکمل کرائی جائیں گی ، اور جو ممالک ریس میں شامل نہیں ہیں اور ان کی التوا شدہ تمام سیریز بھلے منعقد ہی کیوں نہ کروادی جائیں ،تو بھی وہ فائنل کے امیدوارنہیں ہوسکیں گے تو ایسی سیریز اور ایسے ممالک کے ٹورز و ہوم میچز ملتوی کرکے ان میں مساوی پوائنٹس تقسیم کردیئے جائیں گے،اس کا عبوری اعلان آئی سی سی کی جانب سے اگلے ماہ متوقع ہے اور تفصیلی فیصلہ دسمبر سے جنوری تک کردیا جائے گا،پاکستان جو اس وقت ریس سے بہت دور ہے،اس نے اگر نیوزی لینڈ میں سیریز جیت لیا ور پھر جنوبی افریقا کو ہوم گرائونڈز میں پرادیا تو پھر اس کا بنگلہ دیش سے باقی ماندہ واحد ٹیسٹ اپریل میں شیڈول ہوجائے گا لیکن اس کا انحصار بھی دیگر سیریز پر رہے گا،اس لئے اس میچ کے ملتوی کئے جانے اور پوائنٹس برابر تقسیم کئے جانے کے امکانات ہیں۔
یہ سب کیسے ہوگا؟اس کے لئے تفصیلی جائزہ پیش خدمت ہے۔

سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل اگلے سال جو ن میں لارڈز میں شیڈول ہے ،سابقہ شیڈول کے مطابق تمام 9 ممالک کی سیریز مارچ 2021تک مکمل ہونی تھیں لیکن کووڈ-19کی وجہ سے متعدد سیریز التوا کا شکار ہیں اور اس کے لئےوقت بہت کم باقی ہے،آئی سی سی پر امید ہے کہ فائنل وقت پر ہوگا لیکن دیکھنا ہوگا کہ ملتوی شدہ سیریز کیسے ری شیڈول ہوتی ہیں۔
سب سے قبل اب تک کے اسٹیٹس کا جائزہ لیتے ہیں۔
ٹیسٹ چیمپئن شپ!وقت کم،سیریز زیادہ، پھر بھی فائنل کا خفیہ منصوبہ،پاکستان کے چانسز کیا؟بریکنگ نیوز
اگست 2019سے شروع ہونے والی ٹیسٹ چیمپئن شپ میں9ممالک نے 6،6 سیریز کھیلنی ہیں ،مارچ 2021تک 3سیریز اپنے ملک اور 3 سیریز ملک سے باہر رکھی گئی ہیں۔اب تک بھارت،انگلینڈ اور پاکستان آدھے سے زیادہ یعنی 4،4 ٹیسٹ سیریز کھیل چکے ہیں،آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا سفر 3،3 سیریز کے ساتھ آدھا ہوا ہے اور باقی ممالک سری لنکا،بنگلہ دیش،جنوبی افریقا اور ویسٹ انڈیز کی صرف 2،2 سیریز ہوئی ہیں،سابقہ شیڈول کے تحت سرکل مکمل ہونے میں اب 6 ماہ کا عرصہ باقی ہے ۔کووڈ-19کی وجہ سے کئی سیریز التوا میں ہیں جن کو جون 2020سے قبل مکمل ہونا ہے۔
باقی ماندہ سیریز
بنگلہ دیش کا دورہ سری لنکا،اکتوبر،نومبر۔2020،تین ٹیسٹ میچز کھیلے جانے ہیں،دورے پر غیر یقینی کے بادل ہیں لیکن امید ہے کہ سیریز ہوگی۔
ویسٹ انڈیز کا دورہ نیوزی لینڈ،3 ٹیسٹ میچز،دورہ نومبر میں شیڈول کے مطابق ہوگا۔
بھارت کا دورہ آسٹریلیا،4ٹیسٹ میچز،دسمبر 2020سے جنوری 2021۔دورہ ہوگا۔
پاکستان کا دورہ نیوزی لینڈ،2 ٹیسٹ ،دسمبر 2020،دورہ پروگرام کے مطابق ہوگا۔
انگلینڈ کا دورہ سری لنکا،2 ٹیسٹ ،جنوری 2021،دورہ ری شیڈول کیا گیا ہے،یہ مارچ 2020کاملتوی شدہ دورہ ہے۔
ویسٹ انڈیز کا دورہ بنگلہ دیش،3ٹیسٹ ،جنوری 2021،دورہ شیڈول کے مطابق تاحال طے ہے۔
انگلینڈ کا دورہ بھارت،5ٹیسٹ ،جنوری 2021سے شروع ہوگا۔
جنوبی افریقا کا دورہ پاکستان،2ٹیسٹ،جنوری 2021،دورہ شیڈول ہے۔
سری لنکا کا دورہ جنوبی افریقا،2ٹیسٹ،جنوری 2021کا شیڈول ہے لیکن اب یہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ اس ماہ جنوبی افریقا کی ٹیم پاکستان ہوگی۔
آسٹریلیا کا دورہ جنوبی افریقا،3 ٹیسٹ ،فروری 2021۔جنوبی افریقا میں سیریز ہونے کے امکانات موجود ہیں۔
سری لنکا کا دورہ ویسٹ انڈیز،2ٹیسٹ،اس سیریز کے شیڈول میں بھی تبدیلی یقینی ہے۔
کووڈ-19کی وجہ سے ملتوی شدہ سیریز جو تاحال ری شیڈول نہیں ہوسکی ہیں۔
آسٹریلیا کادورہ بنگلہ دیش،2ٹیسٹ،جون 2020کاملتوی شدہ دورہ کیسے ممکن ہوگا،سوال ہے۔
جنوبی افریقا کا دورہ ویسٹ انڈیز،2ٹیسٹ،جولائی،اگست 2020کا دورہ اگلی تاریخوں میں کب ممکن ہوگا،خاموشی ہے۔
نیوزی لینڈ کا دورہ بنگلہ دیش،2ٹیسٹ ،2020۔دورہ ملتوی کیا جاچکا،ری شیڈولنگ کی بات نہیں ہورہی ہے۔
بنگلہ دیش کا دورہ پاکستان،ایک باقی ٹیسٹ،اپریل 2020کا ملتوی شدہ ٹیسٹ اگلے سال اپریل میں ممکن ہوسکے گا۔
اس صورتحال کے تناظر میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پہلے سے طے شدہ شیڈول کے بعد ملتوی شدہ ٹیسٹ سیریز کے ری شیڈولنگ ہونے کےا مکانات کم ہیں۔
پوائنٹس ٹیبل پر اس وقت بھارت،آسٹریلیا اور انگلینڈ کا360 سے 292تک غلبہ ہے،اس کے بعد قریب ترین نیوزی لینڈ 180پوائنٹس کے ساتھ ہے جبکہ پاکستان کے 166پوائنٹس ہیں۔
پاکستان اگر نیوزی لینڈ میں دونوں ٹیسٹ ہارگیا تو اس کے پیچھے 3 ٹیسٹ میچز بچیں گے،وہ جیت بھی جائے تو اس کے 346پوائنٹس ہونگے،اس دوران بھارت،انگلینڈ اور آسٹریلیا کی سیریز موجود ہیں ،بھارت ایک سے 2 فتوحات کے ساتھ 400سے اوپر چلاجائے گا،اسی طرح انگلینڈ اور آسٹریلیا بھی کوئی ایک یا2سیریز جیت کر 400کے قریب یا اس سے آگے جاسکتے ہیں۔نیوزی لینڈ کے لئے بھی 2 سیریز فیصلہ کردیں گی۔
پاکستان نیوزی لینڈ میں دونوں ٹیسٹ اور ہوم گرائونڈ پر جنوبی افریقا اور بنگلہ دیش سے تینوں میچز جیت کر اپنے مجموعی پوائنٹس 466کر سکتا ہے،پھر بھارت،آسٹریلیا اور انگلینڈ میں سے 2 کی شکستیں و فتوحات ایسی رہیں کہ وہ 466سے آگے نہ نکل سکیں تو فائنل کھیلنے کا امکان باقی ہے۔
کرک سین کا تجزیہ ہے کہ فروری ،مارچ تک اگر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی ٹاپ 2 یا 3 ٹیموں کی فائنل ریس میں شرکت باقیوں سے اتنی آگے چلی جائے کہ باقی ملتوی شدہ سیریز ہوبھی جائیں توبھی کوئی ٹیم ان کے پوائنٹس تک نہ پہنچ سکے تو پھر ملتوی شدہ سیریز کے پوائنٹس مساوی تقسیم کرکے سیریز ختم کردی جائیں گی اور ان ممالک کو اعتراض اس لئے نہیں ہوگا کہ وہ کھیلنے کے مواقع ملنے اور جیتنے کے باوجود بھی فائنل ریس کے قابل نہیں ہوسکیں گی اس لئے کوئی ملک نہیں بولے گا کیونکہ کھیلنے اور جیتنے سے بھی فائنل میں پہنچنے جتنے پوائنٹس ممکن نہیں ہوپائیں گے،اس لئے آئی سی سی نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل ملتوی نہیں کیا ہے باوجودیکہ وقت کم ہے اور سیریز زیادہ بچی ہیں۔
دوسری صورت میں صرف ان سیریز کو فوقیت دی جائے گی جو فائنل ریس کی امیدوار بن سکیں اور اس کے لئے اپریل2021کی ڈیڈ لائن رکھی جائے گی تاکہ شیڈول کے مطابق پہلی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل جون 2021میں لارڈز میں کروایا جاسکے۔اصل جنگ بگ تھری انگلینڈ،بھارت اور آسٹریلیا میں لگے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں