ورلڈ کپ سپر لیگ کا شور زیادہ،شیڈول ادھورا

عمران عثمانی

آئی سی سی نے کرکٹ کو کیا بنادیا ہے؟ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ ،خیال اچھا،پلان ادھورا اور ناقص۔
ورلڈ کپ سپر لیگ،پروگرام اعلیٰ اور شیڈول بد سے برا۔
دونوں ایونٹس نقائص،مذاح اور تماشے سے بھر پور ہیں،کرکٹ کی گلوبل باڈی تو سپریم ہوتی ہے،اس کے منصوبے بہت آگے کے ہوتے ہیں ،ان میں کچھ کمزوری تلاش کرنے پر بھی نہیں ملتی ہے لیکن یہ ایسے 2 منصوبے ہیں جس پر دنیائے کرکٹ کےغیر جانبدار مبصر تنقید کرتے آئے ہیں اور مزید آگے بھی تنقید بڑھے گی،اس کی بنیادی وجہ ہے اور وہ یہ کہ نام تو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ رکھا گیا ہے لیکن اس کا شیڈول مرضی کی سیریز ،مرضی کے ممالک ہیں،نام تو آئی سی سی ورلڈ کپ سپر لیگ ہے مگر اس میں باہمی سیریز ادھوری اورنفع کو سامنے رکھ کر شیڈول کی گئی ہیں۔
ون ڈے کرکٹ کی 139دن بعد آج دھماکے دارواپسی،2 نئی باتیں
بنیادی سوال ہے کہ تمام ٹیسٹ ممالک ایک دوسرے کے خلاف نہ کھیلیں اور آپ 2 ٹیموں کا فائنل ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے نام سے کراوکر حقیقی چیمپئن کا ٹائٹل دے سکیں گے؟
آپ تمام ممالک کو ایک دوسرے کے سامنے لائے بغیر ورلڈ کپ سپر لیگ کا نام کیسے رکھ سکتے ہیں؟
اگر یہ درست ہے تو ورلڈ کپ بھی ایسے ہی شیڈول کردیں،گزشتہ ورلڈ کپ میں تمام 10 ٹیموں نے ایک دوسرے کے خلاف کیوں کھیلا،مرضی کے ملک حریف بناکر فائنل کروادیتے۔2023کے ورلڈ کپ میں بھی 4 ٹیموں کو سائیڈ پر کرکے آپس میں کھلا کر سیمی فائنل کا ٹکٹ دے دیں،کوئی بات نہیں ،فائنل تو ورلڈ کپ کا ہی کہلائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ کمزور پلان کسی خاص مگر منفی مقصد کے لئے ہے۔آج 30 جولائی 2020سے ورلڈ کپ سپر لیگ شروع ہورہی ہے،پہلے اس کا جائزہ لے لیں،یہ تو پہلے ہی بتایا جاچکا ہے کہ تمام ممالک 8 سیریز کھیلیں گے،4 ہوم اور 4 اوے کی ہونگی،ہر ون ڈے کے 10 پوائنٹس ہونگے اور 2سال بعد ٹاپ 7 ٹیمیں ورلڈ کپ 2023کا ٹکٹ لے لیں گی۔
ورلڈ کپ سپر لیگ ،لیگ 2 اور چیلنج لیگ،،سیریز اور پوائنٹس سسٹم متعارف
اب ذرا ورلڈ کپ سپر لیگ کی تمام باہمی سیریز کا جائزہ لیتے ہیں۔
آسٹریلیا اس سفر میں بنگلہ دیش ،آئرلینڈ،نیدر لینڈ اور سری لنکا سے نہیں کھیلے گا۔
آسٹریلیا کا مقابلہ بھارت،نیوزی لینڈ،جنوبی افریقا اور زمبابوے سے ہوگا ،اسی طرح افغانستان،انگلینڈ،پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے بھی مقابل ہوگا،گویا آسٹریلیا صرف ایک بڑے نام سری لنکا کے مقابل نہیں ہوگا،
اب بھارت کو دیکھتے ہیں،وہ بنگلہ دیش،آئر لینڈ،نیدر لینڈ اور پاکستان سے نہیں کھیلے گا ۔
یہی بھارتی ٹیم انگلینڈ،جنوبی افریقا،ویسٹ انڈیز،آسٹریلیا،نیوزی لینڈ،سری لنکا اور زمبابوے سے کھیلی گی۔
انگلینڈ کا جائزہ یوں بنتا ہے کہ وہ نیوزی لینڈ،ویسٹ انڈیز،زمبابوے اور افغانستان سے نہیں کھیلے گا۔
اس کا مقابلہ آئرلینڈ،آسٹریلیا،پاکستان،سری لنکا،بنگلہ دیش ،بھارت،نیدر لینڈ اور جنوبی افریقا سے ہوگا۔
پاکستان کا مقابلہ بنگلہ دیش،بھارت،سری لنکا اور آئر لینڈ سے نہیں ہوگا لیکن وہ آسٹریلیا،نیوزی لینڈ،ویسٹ انڈیز،زمبابوے،افغانستان،انگلینڈ،نیدر لینڈ اور جنوبی افریقا سے کھیلے گا۔
کورونا کے باوجود پہلی ورلڈ کپ سپر لیگ کا 30جولائی سے آغاز
بنگلہ دیش کو آسٹریلیا،بھارت اور پاکستان کا سامنا نہیں ہوگا۔نیوزی لینڈ کو انگلینڈ اور جنوبی افریقا جیسی ٹیموں سے نہیں کھیلناپڑے گا۔اسی طرح دیگر ٹیموں کی مثا ل ہے۔
ورلڈ کپ سپر لیگ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی طرح نامکمل ہے،ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے شیڈول کا جائزہ پھر پیش کریں گے،یہاں اس تفصیل کے ساتھ یہ اہم جملہ کہ
ورلڈ کپ سپر لیگ کا شور زیادہ،شیڈول ادھورا ہے۔اس کا شیڈول 30 جولائی 2020 سے 31 مارچ 2022تک ہے اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ 31 مارچ 2022کو کئی سیریز چل رہی ہونگی اس کے کے کچھ میچز اس لیگ سے باہر نکل جائیں گے کیونکہ وہ سیریز 31 مارچ 2022 سے قبل شروع ہونگی اور اپریل 2022تک جارہی ہونگی.

اپنا تبصرہ بھیجیں