وفات سے قبل عبد القادر کاعمر اکمل کے بارے میں اہم انکشاف، پہلی برسی پر خصوصی تحریر

تحریر :حافظ محمد نعمان حامد

(پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیجنڈری گگلی ماسٹر عبد القادر کو ہم سے رخصت ہوئے ایک سال ہوگیا
،گزشتہ سال 6 ستمبر کو وہ ہم سے جدا ہوئے تھے. پاکستان کرکٹ کے ممتاز ترین،صاف گو اور سچے کرکٹرز میں سے ایک عبد القادر کی وفات کے دن کی مناسبت سے حافظ محمد نعمان حامد کی خصوصی مضمون پیش خدمت ہے.

زیر نظر تصویر عمران عثمانی کی کتاب کی تقریب رونمائی کی ہے جو کہ عبد االقادر کی وفات سے چند ماہ پہلے لاہور پریس کلب میں منعقد ہوئی تھی ۔ اس تصویر میں احقر اور برادر عمران عثمانی کے ساتھ پاکستان کرکٹ ٹیم کے تین سابق کپتان سلمان بٹ، عبدالقادر اور عامر سہیل اسٹیج پر نمایاں ہیں۔ اس تقریب کے 5 ماہ بعد لیجنڈ ی کرکٹر عبدالقادر ہمیں داغِ مفارقت دے کر راہیٔ عدم ہوئے۔


حقیقت یہ ہے کہ عبدالقادر لیجنڈی کرکٹر ہی نہیں بلکہ بڑے دل والے ایک عظیم انسان تھے۔ اور اگر میں ان کو سچا عاشق رسول، متقی، پرہیزگار، پاک طینت و پاک باز، اصول پسند اور نیک صفت مسلمان کہوں تو مبالغہ نہ ہوگا۔ ان کو اسپن کا جادوگر کہا جاتا تھا۔ وہ کوئی جادوگر نہیں تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر ایسی صلاحیت بھر دی تھی کہ وہ اپنی باؤلنگ کے ذریعے کئی طریقوں (لیگ اسپن، گگلی، فلپر، آف اسپن، فاسٹ، سلو) سے بیٹسمینوں کو پریشان کردیتے تھے۔
بیٹسمین وہ بہت اچھے نہیں تھے مگر کئی مواقع پر انہوں نے یادگار اننگز کھیل کر بیٹنگ کے ذریعے بھی پاکستان کی یقینی شکست کو فتح میں بدل دیا۔ مجھے یاد ہے 1987ء کے ورلڈ کپ میں کالی آندھی (ویسٹ انڈیز)، جو اس وقت سب سے مضبوط ٹیم تصور کی جاتی تھی، کے خلاف میچ میں پاکستان ہار رہا تھا مگر آخری اوور میں کورٹنی والش کو چھکا لگا کر عبدالقادر نے پاکستان کی ہار کو جیت میں بدل دیا تھا۔

میری ان کے ساتھ بہت زیادہ ملاقاتیں یا رفاقت نہیں رہی، مگر ایک ہی نشست کے اندر ان کے ساتھ گفتگو سے مجھے ایسا لگا کہ ایسا کھرا انسان میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ ملاقات کے دوران میں نے ان کو باوضو پایا اور اس دوران نماز کے لیے فکر مند۔ نوجوانوں کی ایسی حوصلہ افزائی کرنے والے تھے کہ کوئی بھی ان کے سامنے آ جائے اپنے الفاظ ہی نہیں بلکہ عملی اقدام سے نمونہ پیش کرتے۔

عمران عثمانی نے عبدالقادر مرحوم کو اپنی کتاب پیش کی تو کہنے لگے کہ آپ نے محنت کرکے یہ کارنامہ سرانجام دیا ہے، میں مفت میں نہیں لوں گا بلکہ اس کی قیمت ادا کروں گا۔ اور پھر انہوں نے فورا نہ صرف خود قیمت ادا کی بلکہ اسٹیج اور ہال میں موجود تمام مہمانوں سے کہا کہ وہ بھی اسی طرح عمران عثمانی کی حوصلہ افزائی کریں۔
تقریب کے اختتام پر مجھے موقع ملا کہ اپنی گاڑی پر عبدالقادر مرحوم کو ان کے گھر تک ڈراپ کردوں، راستے میں بے تکلف گپ شپ کے دوران میں نے ان کے ایمان و یقین کے عجیب مظاہر دیکھے اور محسوس کیے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ عمر اکمل آپ کا داماد ہے اور وہ بہت ٹیلنٹڈ کھلاڑی ہے، مگر قومی ٹیم میں مستقل کیوں اس کی جگہ نہیں بن پا رہی؟ میں سمجھ رہا تھا کہ وہ کہیں گے کہ کرکٹ بورڈ زیادتی کر رہا ہے۔ میں چونکہ بورڈ کی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہوں اس لیے میری وجہ سے عمر اکمل کو نشانہ بنایا جا رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ مگر ان کا جواب سن کر میں حیرت زدہ رہ گیا۔ کہنے لگے کہ “صرف ٹیلنٹ اور صلاحیت سے کامیابی نہیں مل سکتی۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے تعلق بھی ضروری ہے۔ ایک دفعہ اللہ کے بن کے تو دیکھو پھر دیکھنا کیسے کامیابیاں ملتی ہیں۔ میں نے عمر اکمل کو بہت سمجھایا ہے مگر وہ سمجھتا ہی نہیں ہے۔” (سبحان اللہ)
آج عبد القادر دنیا میں نہیں رہےمگر ان کے داماد عمر اکمل اپنی انہی حرکتوں کی وجہ سے نہ صرف معطلی کی سزا کاٹ رہے ہیں بلکہ عالمی عدالت میں ان کے کیس کی سماعت شروع ہونے کو ہے.گویا عبد القادر نے اپنی زندگی ہی میں اس روز سچی بات کی تھی اور ایسی عادتوں کا ذکر کیا تھا جو اب درست ثابت ہورہی ہیں.
عبدالقادر مرحوم نے ہمیشہ ذاتی اغراض و مفادات سے بالا تر ہوکر ملک و قوم اور کرکٹ کے بہترین مفاد میں اپنا پلڑا ڈالا۔ انہیں دو مرتبہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ دونوں مرتبہ اپنے اصولوں پر کمپرومائز نہ کرسکے۔ کرپشن اور سفارش کے خلاف سینہ سپر ہوگئے۔ عہدے اور مراعات کی قربانی دے کر گھر چلے گئے اور دونوں مرتبہ وقت سے پہلے خود استعفی دے دیا مگر جھکنا اور بکنا گوارا نہ کیا۔ حالانکہ جب وہ قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سیلیکٹر تھے تو اپنے دونوں بیٹوں کو قومی ٹیم میں چانس دلوا سکتے تھے۔ اس موقع پر دونوں صاحبزادے انڈر 19 میں ملک و بیرون ملک شاندار پرفارمنس بھی دے رہے تھے، مگر انہوں نے میرٹ کو ترجیح دی اور اقربا پروری کا قلع قمع کرنے کی کوشش کی۔ اور پھر یہی وجہ ہے کہ ان کی سیلیکٹ کی ہوئی ٹیم نے T20 ورلڈ کپ جیت کر قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔
اسی طرح عبدالقادر نے بتایا کہ “نواز شریف جب جدہ میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے تو میں نے ان کو خط لکھا تھا کہ میری دُعا ہے کہ آپ کو تیسری مرتبہ ملک کی خدمت کا موقع ملے۔ مگر اس کے لیے آپ وعدہ کریں کہ آئندہ جب موقع ملے گا تو آپ کا مقصد صرف وزارتِ عظمٰی کا منصب سنبھالنا اور مزے لوٹنا نہ ہو بلکہ آپ اللہ و رسول کی رضا اور دین و انسانیت کے خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیں گے۔ پھر دیکھیں آپ کو کیسی لازوال عزت ملتی ہے۔ مگر انہوں نے میری بات کو اہمیت نہ دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج تیسری مرتبہ اقتدار ملنے کے باوجود ایک مرتبہ پھر ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ پاناما لیکس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اصل میں ان کے خلاف سوموٹو ایکشن لے لیا تھا۔”
اسی طرح راستے میں ایک ٹریفک سگنل پر رُکے تو ایک غریب شخص بال پوائنٹ فروخت کر رہا تھا۔ اس کو اشارہ کرکے اپنے پاس بلایا اور چند بال پوائنٹس خرید لیے۔ میں نے کہا کیا آپ کو پن چاہیے تھا۔ عبدالقادر کہنے لگے کہ نہیں۔ یہ غریب شخص اپنی روزی کے لیے بھیک مانگنے کی بجائے سڑک پر کھڑا ہوکر پن فروخت کر رہا ہے تو آپ کو ضرورت نہ بھی ہو تو ایسے لوگوں سے کچھ خرید کر ان کی مدد ضرور کر دینی چاہیے۔ ان سے تعاون کا یہی طریقہ ہے کہ آپ کو ضرورت نہ بھی ہو تو ان سے اچھے داموں چیزیں خرید لو۔ (سبحان اللہ) ایسی انسانیت نوازی اور ہمدردی آج ہمیں ڈھونڈنے کو نہیں ملتی۔
عبدالقادر عمران خان کو اپنا دوست کہتے تھے۔ عمران خان نے بھی ان کی وفات پر آنسو بہائے۔ جب عمران خان وزیراعظم بنے تو اپنی تقریب حلف برداری میں جن کرکٹرز کو دعوت دی ان میں عبدالقادر بھی شامل تھے۔ پھر بنی گالہ میں بھی ان کی دیگر کرکٹرز کے ساتھ عمران خان سے نشست ہوئی۔ ایسے مواقع پر عموماً خوشامد اور جی حضوری کے ذریعے حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرکے عہدے اور مراعات حاصل کرنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔ مگر وزیراعظم نے جب ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو عبدالقادر نے ببانگ دہل اس کے برعکس رائے دی۔ حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ کسی کرکٹر نے عمران خان کے ساتھ اپنی دوستی، تعلق اور محبت کا ایسا اظہار نہیں کیا جیسا عبدالقادر آخر دم تک کرتے رہے۔ مگر اس تعلق سے کبھی انہوں نے ذاتی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔ وہ چاہتے تو فرمائش یا ضد کے ذریعے عمران خان سے اپنی بات منوا سکتے تھے اور عمران خان کو بھی معلوم تھا کہ میرے لیے عبدالقادر سے زیادہ مخلص کوئی نہیں ہوسکتا۔ مگر عبدالقادر نے ایسی ناپاک سوچ اور ارادے کو اپنے تعلق اور محبت کے بیچ نہیں آنے دیا۔ انہوں نے ہمیشہ کہا کہ “بہرحال عمران خان کی رائے کو فوقیت حاصل ہے۔ اس نے میری بات نہیں مانی۔ مگر میں پھر بھی اس کے ساتھ کھڑا ہوں اور اس کی کامیابی کے لیے دعا گو ہوں۔” آج عمران خان کے لیے دعائیں کرنے والا اس کا مخلص اور بے لوث دوست چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ عمران خان کی حالت پر رحم فرمائے اور ہم سب کو عبدالقادر جیسا بننے اور ان کی زندگی سے سیکھنے والا بنائے۔
حق مغفرت کرے، عجب آزاد مرد تھا ۔۔۔۔۔ !
(یہ تحریر ایک سال قبل فیس بک پر لکھی تھی، آج ان کی برسی کے موقع پر ضروری تبدیلی کے ساتھ کرک سین کے لئے تیار کی ہے.)

اپنا تبصرہ بھیجیں