پانچ سالہ ریکارڈ،سیزن کے کامیاب اختتام کا چیلنج،انگلینڈ آج سرخرو ہوپائےگا؟

عمران عثمانی

ورلڈ چیمپئن انگلینڈ کو آج اپنے 5 سالہ شاندار ریکارڈ کے بچانے کا چیلنج درپیش ہے تو ساتھ ہی اس سال کے آخری میچ میں شکست سے بچنے اور سیریز میں ناکامی سے دوچار نہ ہونے کا مشن بھی پیش ہے۔انگلش کرکٹ ٹیم 2015کے بعد کبھی بھی ہوم گرائونڈ پر باہمی ون ڈے سیریز نہیں ہاری ہے۔دوسری جانب اس سال کے کووڈ-19کےمشکل ترین سیزن میں پاکستان،ویسٹ انڈیز،آئرلینڈ اور آسٹریلیا سے سیریز جیتنے کے بعد وہ اپنے سیزن کا اختتام اس آخری میچ کی بڑی ناکامی سے کرکے پورے سیزن کا مزا کھونا بھی نہیں چاہے گی۔
دونوں ممالک کے مابین 3 ایک روزہ میچزکی سیریز کا تیسرا وآخری اور فیصلہ کن میچ بدھ کو اولڈ ٹریفورڈ میں کھیلا جائے گا،سیریز اس وقت 1-1سے برابر ہے۔آسٹریلیا نے پہلا میچ جیتا تھا اور انگلینڈ نے دوسرے میچ میں کامیابی اپنے نام کی تھی جو نہایت ہی ناقابل یقین تھی جب اس نے 22رنزکے اندر 6وکٹیں حاصل کرکے آسٹریلیا کے جبڑے سے فتح چھین لی۔
کرک سین کا تجزیہ 100فیصد درست،انگلینڈ کی آسٹریلیا کے خلاف ڈرامائی فتح،سیریز برابر
سیریز کے تیسرے میچ میں آسٹریلیا کے تجربہ کار بیٹسمین اسٹیون اسمتھ کو شامل کیا جائے گا جو سر کی چوٹ کی وجہ سےابتدائی 2میچزنہیں کھیل سکے تھے،انہوں نے منگل کو نیٹ پریکٹس کی اور ہیڈ کوچ جیسٹن لینگر نے تصدیق کی ہےکہ وہ آخری میچ میں کھیلیں گے۔
انگلش ٹیم میں معین علی کو ڈارپ کرکے کرن برادرز کی جوجوڑی گزشتہ میچ میں سیٹ ہوئی تھی اس کا قائم رہنا ہی انگلینڈ کے مفاد میں ہوگا اس لئے تبدیلی کاامکان نہیں ہے۔
آسٹریلیا کی ٹیم میں اسٹیون اسمتھ کس کی جگہ کھیلیں گےْمارنوس لبوشین دیگر کھلاڑیوں کے مقابلے میں بہتر ہیں تو کیا اسمتھ کو نہیں کھلایا جائے گا اور یا پھر مڈل آرڈر میں سے کوئی اور ڈراپ ہوگا،فیصلہ میچ سے قبل کیاجائے گا۔
اس میچ کے لئے نئی وکٹ ہوگی جس پر رنز بننے کا امکان زیادہ ہے،اس طرح پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم 270سے 295کےدرمیان رنز سیٹ کرسکتی ہے ،موسم صاف رہنے کی پیش گوئی ہے اور دوسری اننگ کے آخری 20 اوورز میں اوس پڑنے کا امکان ہے۔
دوسرا ون ڈے آج،5 سالہ ریکارڈ خطرےمیں،پہلے بیٹنگ کے ناقابل یقین نتائج
ٹاس جیتنے والی ٹیم پہلے بیٹنگ کو ترجیح دے گی یا اوس کا سوچ کر پہلے فیلڈنگ کرے گی؟
اولڈ ٹریفورڈ میں گزشتہ 8 میچز میں پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم نے فتح حاصل کی ہے۔اس لئے یہ بات دونوں کپتانوں کے پیش نظر ہے اس لئے گزشتہ میچ میں اوئن مورگن نےٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا انتخاب کیا تھا۔
اس بار یہ فیصلہ صرف اس صورت میں الٹ پڑسکتا ہے کہ توقع کے مطابق دوسری اننگ میں اوس زیادہ پڑجائے اور بعد میں بیٹنگ کرنے والی سائیڈ اس سے فائدہ اٹھالے۔امکان تو موجود ہے۔
کرک سین تجزیہ کے مطابق آسٹریلیا کے کپتان ایرون فنچ اگرٹاس جیت گئے تو وہ پہلے بیٹنگ کو ترجیح دیں گے اورانگلش ٹیم کے لئے سیریز بچانے کا مشکل ترین چیلنج چھوڑیں گے۔اوس کی صورت میں اوئن مورگن سائیڈ میچ بچالے گی،دوسری صورت میں اسے مشکلات ہونگی۔
انگلش کپتان ٹاس جیت گئے تو یہی صورتحال آسٹریلیا کے لئے ہوگی۔آسٹریلیا گزشتہ میچ ہار کر زیادہ فیورٹ نہیں رہا ہے اور انگلینڈ ماضی کے 5 سالہ ریکارڈ کے بچائو اور سیزن کےکامیاب اختتام کے لئے بھر پورزور لگائےگا،میچ کینگروز کی جیب میں جاسکتا ہے۔
جوئے روٹ 6000رنزسے 68 اورایرون فنچ 5000سے 29رنزاور گلین میکسویل 3000رنزسے 45رنزکی دوری پر ہیں ۔
گزشتہ میچ میں انگلینڈ کے9ویں اور 10 ویں نمبر کے بیٹسمینوں نے ناقابل یقین شراکت اور پھرآسٹریلیا کی جاری سیٹ اننگ کے 30 اوورز بعد اچانک انگلش بائولرز نے 22رنزکے اندر6وکٹیں اڑاکرآسٹریلیا سے فتح چھین لی تھی.اولڈ ٹریفورڈ میں اس نے سیریز کا دوسرا میچ24 رنز سے جیت کر مقابلہ 1-1سے برا بر کردیا تھا،اب 3میچز کی اس ٹرافی کا فیصلہ 16ستمبر کے آخری میچ میں ہونا ہے.232رنزکے جواب میں آسٹریلیا کی اننگ 207پر تمام ہوئی تھی.اہم وقت پر 3وکٹ لینے والے جوفراآرچر میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے تھے.

اپنا تبصرہ بھیجیں