پاکستان کام آیا نہ آسٹریلیا،انگلش کرکٹ کو بڑا جھٹکا

لندن(کرک سین رپورٹ)

انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی 6 ماہ کی محنت کے نتائج حوصلہ افزا نہیں نکلے،بائیو سیکیور ببل کام آیا نہ کووڈ-19سے بچنے کے فول پروف انتظامات،ویسٹ انڈیز کی آندھی پائونڈز نہ لاسکی نہ ہی پاکستان کی کمک،آسٹریلیا کی بیٹری سے بڑا فائدہ ہوا اور نہ ہی ڈومیسٹک ایونٹس کی مختلف جھلکیوں نے فائدہ دیا۔
انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے اعتراف کرلیا ہے کہ ان تمام کاوشوں کے باوجود بورڈ 200ملین پائونڈز کے خسارے سے دوچار ہے کیونکہ اس سیزن میں 100ملین پائونڈز کا نقصان ہوچکا ہے اور یہ بڑھ کر اگلے سال 200ملین پائونڈز ہوجائے گا۔
ای سی بی چیف ایگزیکٹو ٹام ہوریسن کہتے ہیں کہ اس کے اثرات برے ہونگے،اس لئے پہلے ہی فیصلے لینے ہونگے اور اس کے لئے ہمارے اسٹرکچر سے 62 افراد کو باہر نکالا جائے گا اور بجٹ سے 20 فیصد بچت کرکے نقصان کا ازالہ کریں گے۔
بائیو سیکیور کی سیٹنگ میں آنے والی لاگت سے بھی بورڈ کی کمر ٹوٹی ہے،چنانچہ اس کے اثرات کائونٹیز پر بھی پڑے ہیں اور مستقبل میں کرکٹرز پر بھی آسکتے ہیں۔
انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے بائیو سیکیور ببل میں ویسٹ انڈیز،پاکستان،آئرلینڈ اور آسٹریلیا کی کامیاب سیریز کے لئے بڑی محنت کی اور دائو پر لگے 380ملین پائونڈز میں سے 280ملین پائونڈز بچابھی لیئے ہیں لیکن اس کے باوجود کرکٹ بورڈ اور سسٹم سے 62 افراد کے اخراج اور 20فیصدبجٹ کی کٹوتی پاکستان سمیت دیگر ممالک کے لئے خطرے کی بات ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں