پاکستان,متعدد کرکٹرز,پی سی بی,عالمی عدالت,فیصلہ

پاکستان کےمتعدد کرکٹرز کا پی سی بی کے خلاف عالمی عدالت جانے کا فیصلہ

دبئی(کرک سین رپورٹ)

آئی سی سی کی واضح ہدایات کی سر عام خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ فکسنگ سمیت دیگر معاملات میں ملوث کچھ کرکٹرز کو بورڈ نے ملازمت دےدی ہے اور کچھ کو مکمل طور پرنظر انداز کیا گیا ہے۔ اس طرح کے متعدد الزامات پی سی بی پر ہیں اورقانونی امور میں پھنسے پاکستان کرکٹ بورڈ کواگلے تین ماہ میں پی ایس ایل میچوں کی میزبانی ، زمبابوے اور جنوبی افریقہ کی میزبانی اور دورہ نیوزی لینڈ کو بھی دیکھنا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے جارہے ہیں۔ جہاں کرکٹ بورڈ کے فیصلوں نےڈومیسٹک کرکٹ کو نقصان پہنچایا ہے ، وہیں پاکستان سپر لیگ بھی بدترین بحران کا شکار ہے۔وہ پاکستان سپر لیگ پوری دنیا میں اس کے ماڈل کی تعریف کی گئی تھی وہ احسان مانی کے چیئرمین بنتے ہی مسائل میں الجھ گئی ہے ۔کرکٹ بورڈ کو اس وقت لاہور ہائیکورٹ میں اپنے پہلے قانونی جھگڑے کا سامنا ہے جہاں پاکستان سپر لیگ کی ٹیموں نے اقتصادی ماڈل کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کردیا ہے
، پی سی بی اور فرنچائزز کے مابین تعلقات پچھلے کئی مہینوں سے کشیدہ ہیں ۔بورڈ عہدیداروں نے شکایات کو حل کرنے کی بجائے فیس وصولی پر زور دیئے رکھا ہے۔فرنچائزز نے ہفتہ کو واضح کیا ہے کہ وہ نہایت مجبوری میں عدالت آئے ہیں۔
دوسرا مقدمہ ٹیسٹ کرکٹر عمر اکمل کا ہےجو بین الاقوامی عدالت اسپورٹس میںہے اور جس کی سماعت کےلئے پی سی بی کی مرضی کے مقام پر دی گئی درخواستیں مسترد ہوچکی ہیں۔
پاکستان کے بہت سے کرکٹرزنے عمر اکمل کیس پر نگاہیں مرکوز کر رکھی ہیں کہ اس کا فیصلہ اگر پی سی بی کے خلاف آیا تو وہ بھی انٹر نیشنل کورٹ جائیں گے ان میں 1992 ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے ممبر سلیم ملک بھی شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں