پاکستان کے سابق آل راؤنڈر بھی یارک شائر کائونٹی میں نسل پرستی کا شکار،سنسنی خیز انکشافات

عمران عثمانی

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈررانانوید الحسن نے انکشاف کیا ہے کہ انگلش کائونٹی یارک شائرمیں نسل پرستی اور طعنہ زنی کا کلچر عام ہے۔
2008 سے 2009کے درمیان اس کلب کے لئے کھیلنے والے پاکستانی آل راؤنڈر رانا نوید الحسن نے کہا ہے کہ کلب کے ہوم سپورٹرزکی جانب سے منظم طعنہ زنی کا شکار رہا ہے۔
نسل پرستی کے شکارعظیم رفیق پر انگلینڈ میں ذاتی حملہ،معاملہ سنگین
راناکے انکشافات کے بعد کلب کے سابق کرکٹر عظیم رفیق کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو تقویت ملی ہے جنہوں نے چند روز قبل کائونٹی حکام و ٹیم پر نسل پرستی کے حوالہ سے سنگین الزامات عائد کئے تھے۔
رانا نے انکشاف کیا کہ مجھ سے رفیق نے اپنے خدشات کا اظہار اس وقت بھی کیا تھا جو ہم کھیلتے ہوئے دیکھتے تھے۔
پاکستان سیریز کے فوری بعد نیا انکشاف،انگلینڈ میں مسلمان کرکٹرکی خود کشی کی کوشش،بریکنگ نیوز
نوید الحسن کہتے ہیں کہ میں رفیق کی بات کی مکمل حمایت کرتا ہوں اور تصدیق کرتا ہوں کہ میں بھی اسی برے سلوک کا شکار ہوا ہوں لیکن میں وہاں عارضی بنیادوں پر کھیل رہا تھا،میں اپنے معاہدوں کو خطرے میں ڈالنا نہیں چاہتا تھا اس لئے کبھی زبان نہیں کھولی تھی۔اب میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کلب میں کھلی طعنہ زنی ہوتی ہے ،کوئی بھی ایشیائی باشندہ کچھ نہیں کرسکتا۔اوپر سے اگر پرفارمنس درست نہ ہو تو نسل پرستانہ جملے کسے جاتے ہیں جیسے پاکی۔
میں اگر کارکردگی دکھارہا ہوں تو سب ٹھیک ہوگا ورنہ انکے رویہ تک بدل جاتے ہیں،رہائش گھٹیا کردیتے،ہوٹل کے کمرے چھوٹے ،استعمال شدہ دینا شروع کردیتے ہیں،صاف لگتا تھا کہ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے،اپنے سےگھٹیا ثابت کیا جاتا رہا ہے۔
یہ سب دیکھ کر میں نظر انداز کرتا رہا لیکن میں جانتا تھا کہ یہ سب عارضی ہے،مجھے چند ہفتوں کے لئے کھیلنا تھا لیکن رفیق کے ساتھ برا ہوتا رہا،میں اسے منظم انداز میں احتجاج کرنے اورمستحکم رہنے کی تلقین کرتا رہا تھا،کلب نے اسے جس وقت اور جس کنڈیشن میں نکالا تھا ،وہ ایک گھٹیا عمل تھا۔دوسرے ایشیائی کھلاڑیوں کو بیرون ملک کلب میں منفی تجربات کا سامنا رہا ہے۔
عظیم رفیق نے انکشاف کیا تھا کہ میں اس سلوک پر خود کشی کی جانب مائل ہوگیا تھا۔کلب نے آزاد قانونی کمپنی اور ایک سب کمیٹی تشکیل دی ہے جو ان الزامات کی تحقیقات کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں