کرکٹ جنوبی افریقا معطل,آئی سی سی,پابندی یقینی,بریکنگ نیوز,کنٹرول

کرکٹ جنوبی افریقا معطل،حکومت کا کنٹرول،آئی سی سی کی جانب سے پابندی یقینی،بریکنگ نیوز

عمران عثمانی

جنوبی افریقا میں کرکٹ بحران شدت اختیار کرگیا ہے،حکومت نے ملکی کرکٹ بورڈ معطل کرکے اس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جس کے بعد بڑے بڑے ناموں سمیت کام کرنے والے تمام عہدیدار معطل کردیئے گئے ہیں،حکومتی اقدام کے بعد آئی سی سی کی جانب سے جنوبی افریقا کی کرکٹ رکنیت معطل ہونے کے قوی امکانات ہوگئے ہیں۔
کرک سین نے4 ستمبر 2020کو خبر بریک کی تھی کہ جنوبی افریقا کرکٹ میں حکومتی مداخلت بڑھتی جارہی ہے جس پر انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کو خط بھی لکھ دیا گیا ہے۔
کرکٹ بورڈ میں حکومتی مداخلت،آئی سی سی کو شکایت ارسال،بریکنگ نیوز
کرکٹ جنوبی افریقا نے تصدیق کی تھی کہ جنوبی افریقی انسٹی ٹیوٹ فار ریس ریلیشنز نے یہ شکایت آئی سی سی کو بھیج دی ہے ،شکایت میں کرکٹ بہتری کی 6تجاویز ہیں اور ساتھ میں نسلی کوٹہ کے خاتمہ کی باتیں بھی ہیں۔
شکایت میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ کرکٹ جنوبی افریقا میں بد انتظامی بھی عروج پر ہے اور حکومتی و سیاسی مداخلت بھی رہتی ہے۔کھیل کے مقام کو مفادات کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔موقع پرستی سنگین ہے۔کھیل کی سالمیت پر بڑا سوال ہے۔
خط میں مزید لکھا گیا تھا کہ معاملات اب نسل پرستی،اہانت اور تضحیک سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔اتنی ساری کراہتوںنے کھیل کی روح کا جنازہ نکالا ہے اور کرکٹ کو داغدار کردیا ہے۔خط میں ایک بڑا سنگین الزام یہ بھی ہے کہ کرکٹ جنوبی افریقا نے آئی سی سی اور ملکی نسل پرستی کے قوانین کی دھجیاں اڑائی ہیں اور یہ ایسا مذاق ہے جس سے ملکی قانون کی توہین ہوئی ہے اور بحیثیت ملک جنوبی افریقا کا وقار تباہ ہوگیا ہے۔خط میں خبر دار کیا گیا ہے کہ اسی نسل پرستی کی وجہ سے جنوبی افریقا 1971سے 1991تک کھیلوں سے محروم رہا،ملک میں بنے اعلیٰ قانون نے اسے داغدار ماضی سے نکلنے میں مدد دی لیکن اب پھر وہی حالات ہیں ،جنوبی افریقا پر پھر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔

آئی سی سی کا قانون حکومتی مداخلت کو روکتا ہے لیکن اس کی تشریح یا اس پر عمل کا طریقہ کیا ہے،زمبابوے میں اسی بات پر بورڈ و کرکٹ معطل ہوئے لیکن پاکستان میں مملکت کا سربراہ کرکٹ بورڈ کا آئینی چیف ہوتا ہے،پاکستان کی مثال کبھی زیر بحث نہیں آتی،حالانکہ اس وقت وزیر اعظم سابق کپتان عمران خان ہیں،انہوں نےملکی کرکٹ سسٹم میں تبدیلی کی علی الاعلان میٹنگز کیں،اور تو اور بھارتی کرکٹ بورڈ نے عمران خان کے اقدامات کی تائید ہی کی ہے جو یہ کہا ہے کہ اگر پاکستان کامقابلہ کرنا ہے تو ہمیں بھی پاکستان جیسی تبدیلی لانی ہوگی،بھارتی بورڈ نے یہ بھی مانا ہے کہ حکومت کی اجازت ہوگی تو ہم پاکستان سے کھیلیں گے،تو حکومت کی مداخلت یہاں بھی تو ہے.
کرکٹ جنوبی افریقا میں اب کالوں کی جگہ گورے زیادہ ہوگئے ہیں اور اس میں وزیر کھیل شامل لگتے ہیں،اسی طرح ٹیموں کی سلیکشن کے وقت کوٹہ سسٹم کو لازمی نہیں جانا جاتاہے۔
گزشتہ سال اسی حرکت پر آئی سی سی نے زمبابوے کی رکنیت معطل کردی تھی کیونکہ حکومت نے بورڈ کا کنٹرول سنبھال لیا تھا،بعد ازاں کنٹرول چھوڑنے پر رکنیت بحال ہوئی تھی۔جنوبی افریقا پر کرکٹ معطلی کی تلوار لٹکنے لگی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں