کرک سین کا تجزیہ,درست,بھارت,انٹر نیشنل کرکٹ,عرب امارات

کرک سین کا تجزیہ درست،بھارت کی انٹر نیشنل کرکٹ بھی عرب امارات منتقل،بریکنگ نیوز

عمران عثمانی

کرک سین نے اپنے 24 گھنٹے قبل کے تجزیہ میں لکھا تھا کہ بھارتی کرکٹ اب متحدہ عرب امارات منتقل ہوگئی ہے ،آئی پی ایل خالی میدانوں میں ہوگی اور پی ایس ایل کی جگہ لے لے گی۔
یہ بھی واضح کیا تھا کہ بھارتی میڈیا اور اس کے کرکٹ حلقے پاکستان سپر لیگ کا مذاق یہ کہہ کر اڑاتے تھے کہ چند سو تماشائیوں کے سامنے لیگ ہورہی ہے جبکہ خود کو کو چندسو بھی نہیں مل پائے ۔
یہ بھی عندیہ تھا کہ کوئی بعید نہیں کہ بھارت اپنی انٹر نیشنل کرکٹ سیریز بھی انہی میدانوں میں کھیلتا دکھائی دے۔
کرک سین کے الفاظ کچھ اس طرح سے تھے،
بھارت میں کووڈ-19کی صورتحال خراب رہی تو اگلے سال کے شروع میں انگلینڈ کے خلاف شیڈول سیریز بھی انہی میدانوں میں ہوگی اور پھر دنیا ایک اور نظارہ کرے گی کہ
کل تک پاکستان جن میدانوں میں اپنی انٹر نیشنل سیریز کھیل رہا تھا ،وہاں اب بھارت موجود ہے۔
تقدیر کا نیا کھیل،عرب امارات میں پی ایس ایل کی جگہ آئی پی ایل،آج سے آغاز، ،سبق آموز نظارہ
ہفتہ کو کرکٹ کی معروف ترین ویب سائٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ
بھارت کی انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز کے ساتھ ساتھ آئی پی ایل 2021بھی متحدہ عرب امارت میں شیڈول کئے جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں ۔
جنوری 2021 میں متحدہ عرب امارات میں بھارت انگلینڈ سیریز ہوسکتی ہے ، ہفتہ کو ہی بی سی سی آئی نے امارات کرکٹ بورڈکے ساتھ کریکٹنگ تعلقات کو فروغ دینےکے معاہدے پر دستخط کردیئے ہیں۔
بظاہر یہ معاہدہ 2020کی موجودہ آئی پی ایل کا ہے لیکن حقیقت میں ایسے معاہدے ایونٹ سے قبل ہوا کرتے ہیں ،بھارتی بورڈ کے سربراہ سارو گنگولی کی یواے ای کے ہم منصب کے ساتھ اس معاہدہ تقریب میں شرکت اس کے اگلے منصوبوں کی بھنک سنارہی ہے۔
کرک سین نے 22 اگست 2020کو بھی اسی خدشے کا اظہار کیا تھا،لنک پیش خدمت ہے.
اگلی آئی پی ایل کا بھی اعلان،انگلینڈ سیریز کی میزبانی کا دعوی
انگلینڈ کی محدود اوورز کی سیریز جو ملتوی ہوگئی تھی وہ بھی اب ٹیسٹ سیریز کے ساتھ جنوری 2021سے مارچ 2021کےمابین ہوگی،بھارت میں کووڈ-19کے حالات امریکا کے بعد سب سے زیادہ خراب ہیں ،اس لئے انگلش ٹیم کے ان حالات میں بھارت کے سفر کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔
کرک سین نہایت آزادانہ تجزیہ کرسکتا ہے کہ بھارت کی موجودہ آئی پی ایل ہی نہیں بلکہ اگلی آئی پی ایل کے ساتھ اس کی انٹر نیشنل کرکٹ بھی متحدہ عرب امارات منتقل ہوگئی ہے۔
دونوں بورڈ کے مابین معاہدہ کیوں ہوا؟
کیا آپ کو یاد ہے کہ بھارت نے 2000 کی دہائی میں میچ فکسنگ الزامات کی آڑ میں متحدہ عرب امارات میں کھیلنے سے انکار کردیا تھا ،وہاں اس نے قریب 2 عشروں میں پاکستان سے 2 ون دے میچز کھیلے اور یا پھر ایشیا کپ جیسا ایونٹ، 2014 کے آئی پی ایل کے جزوی میچز وہاں ہوئے اور 2018 میں بی سی سی آئی نے ایشیا کپ یہاں کھیلا۔یہ بھارت ہی تھا جس نے گزشتہ صدی کے آخری 2 عشرے پاکستان کے ساتھ یہاں کرکٹ کھیلی اور ہار ہار کر راہ فرار لے لی ۔اب مطلب پڑا ہے تو معاہدے بھی ضروری ہوگئے ہیں ۔
پاکستان نے عرب امارات کوایک دہائی تک ہوم وینیو کے طور پر استعمال کیاہے لیکن
کیا حسن اتفاق ہے کہ کورونا جیسی وباکے زمانہ میں اس کی کرکٹ اس کے اپنے ملک پاکستان منتقل ہورہی ہے اور پاکستان کا مذاق اڑانے والے بھارت کی کرکٹ عرب امارات جارہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں